اسلام آباد سٹریٹ کرائم میں کراچی سے آگے نکل گیا جرائم میں 54 فیصد اضافہ ، پولیس کمانڈ کی تبدیلی بھی کام نہ آئی ، رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش

اسلام آباد ( ملک نجیب ) وفاقی پولیس نے وزیر اعظم عمران خان کا وفاقی دارالحکومت کو کرائم فری سٹی بنانے کا خواب چکنا چور کر دیا ۔ گزشتہ سال وفاقی دارالحکومت کو بین الاقوامی سطح پر محفوظ ترین شہر ڈکلئیر کیا گیا تھا گزشتہ سال کی نسبت رواں سال وفاقی دارالحکومت میں سٹریٹ کرائم میں 54 فی صد اضافہ ہوا ہے جو وفاقی پولیس کی کارکردگی پر بدترین دھبہ ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے رپورٹ قومی اسمبلی میں جمع کرا دی ۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد کو کرائم فری سٹی بنانے کے لئے 2021 کے اوائل میں اسلام آباد پولیس کی تمام کمانڈ تبدیل کر دی جبکہ وزیر داخلہ بھی تبدیل کر دیا تاہم وفاقی پولیس کی نئی کمانڈ وزیر اعظم کی امیدوں پر پورا نہ اتری بلکہ گزشتہ سال کی نسبت رواں برس پولیس کی نااہلی کے باعث سٹریٹ کرائم میں 54 فی صد اضافہ کر دیا ۔ وزیر داخلہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق 2020 میں پرس چھیننے کے 7 جبکہ 2021 میں 19 واقعات کے ساتھ اضافہ 12 فیصد رہا، نقد رقم چھیننے کے سال 2020 میں 42 ، 2021 میں 58 واقعات کے ساتھ اضافہ 16 فیصد ہوا ، موبائل اور نقد رقم چھیننے کے 2020 میں 41 اور 2021 میں 73 واقعات کے ساتھ اضافہ 32 فیصد رہا زیورات چھیننے کے 2020 میں 13 ، 2021 میں 17 واقعات کے ساتھ 4 فیصد اضافہ رہا، موبائل فون چھیننے کے 2020 میں 27 ، 2021 میں 81 واقعات کے ساتھ اضافہ 54 فیصد رہا، گااڑی چھیننے کے 2020 میں 9 اور 2021 میں 19 واقعات کے ساتھ اضافہ 10 فیصد رہا ، موٹر سائیکل چھیننے کے 2020 میں 31 اور 2021 میں 51 واقعات کے ساتھ اضافہ 20 فیصد رہا ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے بھی وزیر داخلہ سے رپورٹ طلب کی یے جبکہ محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کی ہدایات جاری کی ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں