افغان طالبان کے سربراہ ملاعبدالغنی برادر کون ہیں

اسلام آباد( ویب ڈیسک) طالبان رہنما ملا عبدالغنی بردار دیگر رہنماؤں کے ہمراہ افغانستان پہنچ گئے ہیں اوراس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ آئندہ نئی افغان حکومت کے سربراہ ہوں گے۔ طالبان کے کابل سے کابل تک کے سفر میں ملا عبدالغنی برادر کا سب سے اہک کرداررہا ہے ملا برادر سنہ 2010 میں پاکستان میں اپنی گرفتاری سے قبل نہ صرف طالبان کی قیادت میں دوسرے نمبر پر تھے بلکہ طالبان کی پہلی حکومت اور پھر امریکہ کے خلاف جنگی حکمت عملی کے ماسٹر مائنڈ بھی سمجھے جاتے ہیں۔اپنی رہائی کے بعد انھوں نے اپنی مذاکراتی اور سفارت کاری کی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے طالبان کے بنیادی مطالبے کو منوانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اسی کی بدولت طالبان کابل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ملا عبدالغنی برادر کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں بننے والی طالبان کی نئی حکومت کے عبوری سربراہ ہوں گے۔

ملا عبدالغنی برادر کا شمار طالبان تحریک کے سرکردہ رہنماؤں اور ملا عمر کے انتہائی اہم اور قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ ملا برادر طالبان شوریٰ کے اہم رکن اور ملا محمد عمر کے نائب کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کا تعلق بنیادی طور پر افغانستان کے جنوبی ضلع اورزگان سے بتایا جاتا ہے۔ملا عبدالغنی برادر سنہ 1968 میں پیدا ہوئے۔ ابھی ان کی طالب علمی کا زمانہ تھا کہ اس دوران افغانستان میں سابق سوویت یونین کی افواج کے داخلے کے ساتھ جنگ چھڑ گئی۔ ملا عبدالغنی برادر اپنے اہل خانہ سمیت پاکستان ہجرت کر کے کوئٹہ کے قریب واقع کچلاک میں رہائش پذیر ہو گئے۔سابق سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے ملا عبدالغنی برادر اپنے قریبی دوست اور ساتھی ملا محمد عمر اخوند سمیت حرکت الاسلام گروپ میں شامل رہے۔ملا محمد عمر کی طرح ملا عبدالغنی برادر نے بھی کسی مدرسے یا تعلیمی ادارے سے تعلیم مکمل نہیں کی اسی وجہ سے وہ اپنے آپ کو طالب کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ملا عبدالغنی کا شمار کافی ہوشیار اور سمجھ دار رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ازخود مختلف زبانیں سیکھی ہیں اور پشتو اور دری کے علاوہ وہ عربی، اردو اور انگریزی میں بات چیت کر سکتے ہیں۔ 

سنہ 1994 میں تحریک طالبان افغانستان ملا محمد عمر کی سربراہی میں وجود میں آئی تو ملا عبدالغنی برادر اس تحریک کے نائب سربراہ کے طور پر سامنے آئے۔ وہ نہ صرف ملا محمد عمر کے نائب تھے بلکہ ان کا شمار ملا محمد عمر کے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ جب تحریک طالبان نے افغانستان کے جنوبی اور مغربی صوبوں پر قبضہ کر لیا تو سب سے پہلے ملا عبدالغنی برادر کو ہی پہلے صوبہ نمروز اور بعد میں ایران سے ملحقہ ہرات کا گورنر نامزد کیا گیا۔ملا عبدالغنی برادر کو افغانستان کی مرکزی فوج کا ڈپٹی کمانڈر اور 1999 میں افغان فوج کا سربراہ بننے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ اس دوران انہوں نے نائب وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں نبھائی تھیں۔نومبر2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے پر ملا عبدالغنی نے موٹر سائیکل پر کابل سے نکل کر نہ صرف اپنی بلکہ ملا محمد عمر کی جان بچانے میں کردار ادا کیا تھا۔ دونوں دیگر اہم رہنماؤں سمیت قندھار سے دور پہاڑوں پر پہنچ کر کئی سالوں تک روپوش رہے۔ملا عبدالغنی برادر اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کا تعلق افغانستان کے ایک ہی قبیلے ’پوپلزئی درانی‘ سے ہے۔ تحریک طالبان افغانستان کے ایک اور بانی رہنما ملا عبیداللہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ سابق صدر حامد کرزئی کے قریبی رشتہ داروں میں سے ہیں۔

Taliban co-founder Mullah Abdul Ghani Baradar leaves after signing an agreement with the United States during a ceremony in the Qatari capital Doha on February 29, 2020. – The United States signed a landmark deal with the Taliban, laying out a timetable for a full troop withdrawal from Afghanistan within 14 months as it seeks an exit from its longest-ever war. Pompeo called on the Taliban to honour its commitments to sever ties with jihadist groups as Washington signed a landmark deal with the Afghan insurgents.

سنہ 2007 میں طالبان نے کوئٹہ شوریٰ قائم کی اور ملا عبدالغنی برادر نہ صرف شوریٰ کے سیاسی بلکہ ملٹری سربراہ بھی بن گئے۔ انہوں نے کوئٹہ ہی سے افغانستان کے اندر مختلف محاذوں پر امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف لڑنے والوں کی کمانڈ کی تھی۔نومبر 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد جب سابق صدر حامد کرزئی بون جرمنی معاہدے کے تحت افغانستان کے صدر بن گئے تو انہوں نے مختلف محاذوں پر مزاحمت کرنے والوں کو صلح کے پیغامات بھجوائے۔ ان رہنماؤں میں عبدالحکیم مجاہد، ملا عبدالسلام ضعیف، مولوی وکیل احمد متوکل اور مرحوم مولوی ارسلا رحمانی سمیت کئی ایک نمایاں تھے۔ سابق صدر حامد کرزئی نے 2004 اور 2009 میں ملا عبدالغنی برادر سے رابطہ کر کے انہیں قیام امن میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی جس کی ملا برادر نے یقین دہائی بھی کرائی تھی فروری 2010 میں کراچی میں ان کو پاکستان کے تحقیقاتی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔ کراچی میں ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری کو امریکہ نے ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا مگر افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے اس پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ 

کراچی میں ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری کے بعد زیادہ تر طالبان رہنما ناراض ہوگئے تھے۔ کچھ خفیہ طور پر افغانستان منتقل ہو گئے اور کچھ نے بعد میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کی معاونت سے دفتر کھول کر افغانستان میں امن کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔سابق افغان صدر حامد کرزئی کے بار بار مطالبات پر نومبر 2012 میں پاکستان کی حکومت نے گرفتار طالبان رہنماؤں کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر آخری وقت میں ان دس رہنماؤں کی فہرست سے ملا عبدالغنی برادر کا نام خارج کر دیا گیا جس پر حامد کرزئی کی حکومت نے شدید تنقید کی تھی سنہ 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان مسئلے کے حل کے لیے سابق سفیر ڈاکٹر زلمے خلیل زاد کو نمائندہ خصوصی مقرر کیا تو اُنہوں نے ستمبر اور اکتوبر 2018 میں اسلام آباد اور کابل کا تفصیلی دورہ کیا اور اس دوران انہوں نے دونوں ممالک میں قید بعض طالبان رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کر دیا۔ پاکستان کی حکومت نے 24 اکتوبر 2018 کو ملا عبدالغنی برادر کو رہا کر دیا مگر وہ فروری 2019 تک پاکستان ہی میں رہے۔فروری 2019 میں ملا عبدالغنی برادر پاکستان سے دوحہ چلے گئے اور وہاں پہنچنے کے بعد ان کو دوحہ کے سیاسی دفتر کا سربراہ بنایا گیا۔سیاسی کمیشن کا سربراہ بننے کے بعد ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں طالبان وفد نے اکتوبر 2019 اور دسمبر 2020 میں پاکستان کا دورہ بھی کیا۔ اس دورے میں وفد نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات بھی کی تھی جس کا تذکرہ عمران خان نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بھی کیا۔ملا عبدالغنی برادر نے نہ صرف امریکہ کے خصوصی ایلچی ڈاکٹر خلیل زاد کے ساتھ مذاکرات کیے بلکہ قطر اور ماسکو میں افغانستان سے آنے والے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں بھی حصہ لیا۔امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان دوحہ معاہدے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے کئی ادوار میں ملا عبدالغنی برادر نے افغان طالبان کے وفد کی قیادت کی۔

کم مارچ کو ہونے والے معاہدے پر امریکہ کی طرف سے زلمے خلیل زاد جبکہ طالبان کی طرف سے ملا عبدالغنی برادر نے دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر امریکہ اور پاکستان سمیت دنیا کے پچاس ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکومتی نمائندوں نے شرکت کی تھی جبکہ طالبان کا 31 رکنی وفد بھی موجود تھا۔اسی معاہدے کی روشنی میں امریکہ نے افغانستان سے اپنی افواج واپس بلائیں جس کے بعد طالبان نے مختلف صوبوں کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے صوبائی دارالحکومتوں کو قبضے میں لے لیا اور خلاف توقع کابل پہنچ کر پر امن طریقے سے صدارتی محل سمیت تمام سرکاری اداروں کے ہیڈکوارٹرز کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔طالبان کی جانب سے عبوری حکومت کے سربراہ کے لیے ملا عبدالغنی برادر کا نام لیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں