افغان مجاہدین کا خواتین کو تمام حقوق دینے کا اعلان،امریکی ترجمانوں کے لیےعام معافی،میڈیاکو کام کرنے کی اجازت،ترجمان ذبیح اللہ مجاہد

کابل(نیوزٹویو) ملاعبدالغنی بردارقندھار پہنچ گئے ملا فاضل بھی ان کے ہمراہ ہیں افغان مجاہدین نے دنیا کو یقین دلایا ہے کہ افغان عوام سمیت سفارت خانوں،سفارت کاروں اور تمام عالمی غیر سرکاری تنظیموں کے دفا تر اوران کے افراد کا تحٖفظ یقینی بنا یا جا ئےگا مجاہدین نے امریکہ کے ساتھ کام کرنے والوں کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کیا ہےاور کہا ہے کہ سیاسی نظام کے لیے مشاورت جاری ہے۔ دنیا ہمارے شرعی قوانین کا احترام کرے۔آزادی ہمارا حق تھا وہ ہم نے لے لی ہے افغان جنگ کے دوران ا ستعمال ہونے والا تمام اسلحہ اکھٹا کیا جا ئے گا پاکستان،چین اور روس کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں افغان مجاہدین نے شریعت کے مطابق خواتین کو بھی تمام حقوق دینےکا اعلان کیا ہےافغان مجاہدین کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں اپنی پہلی باقاعدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ خواتین کو وہ تمام حقوق ملیں گے جو شریعت نے ان کو دیے ہیں اور ان سے امتیازی سلوک نہیں ہو گا۔ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف اورا لقاعدہ یا داعش کودہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینگےسب گواہ ہیں کہ بیس سال کی جدوجہد کے بعد افغانستان کو آزاد کروایا۔ اب افغانستان آزاد ہو گیا ہے سب کا تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔انہوں نے بین الاقوامی برادری کو یقین دلایا کہ سفارت خانوں اور امدادی اداروں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی خبریں ہمیں بدنام کے لیے پھیلائی گئیں کہ طالبان گھروں میں داخل ہوتے ہیں۔ افغان فورسزنے ہم کو بدنام کرنے کے لیے عام لوگوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اشرف غنی اور ان کی فورسز اتنی نااہل تھیں کہ کچھ نہ کرسکیں  انہوں نے کہا کہ میڈیا اپنا کا م جاری رکھے لیکن اس میں افغانستان کی ثقافتی اقدار کا خیال رکھا جا ئے میڈیا آزاد ہے لیکن قواعدو وضوابط کی پابندی کرے۔ میڈیا بھارئی چارے کو فروغ دےاسلامی اقدار کے خلاف بھی کچھ نہیں ہو گا۔ میڈیا بہت اہم ہے، اس کو غیر جانب دار ہونا چاہیےہم اپنے معاشرے اور قوم کے مفاد کے لیے اقدامات کریں گے۔ آزادی ہر قوم کا حق ہے۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اب افغانستان آزاد ہے، کسی کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔افغان فورسز کی جانب سے شہریوں کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے کابل میں مداخلت کی۔ ان کے مطابق امن قائم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔

 انہوں نے کہا کہ اسلامی اصولوں کے مطابق خواتین کو کام کرنے کی اجازت ہو گی طالبان کوئی انتقام نیہں لیں گےعوام سے امید ہے کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔اشرف غنی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پرانہوں نے کہا کہ اشرف غنی لاپتہ ہیں ہمیں ان کا کچھ پتہ نہیں۔خواتین ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔ سب کے عقائد کا احترام کیا جائے گا، کابل کے تمام شہری مطمئن ہیں، ہم نے 20 سال لڑنے والوں سمیت تمام مخالفین کو عام معافی دے دی ہےذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم امریکی ترجمانوں کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کرتے ہیں سربراہ طالبان کے حکم سب کو معاف کر دیا گیا ہے۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز کابل کو غیر محفوظ بنا کر چلے گئے۔ شرپسندوں کی وجہ سے طالبان نے کابل میں مداخلت کی۔انہوں نے کہا کہ سب کو تسلی دیتے ہیں کہ سب کو تحفظ دیا جائے گا۔ ضمانت دیتے ہیں کہ سفارت کاروں کو تحفظ دیا جائے گاانہوں نے کہا کہ طالبان کے نام پر بعض مقامات پر لوٹ مار کی گئی، ہم لوگوں کی حفاظت کے لیے مجبوراً کابل میں داخل ہوئے، بہت جلد عوام کو قابل قبول قیادت دیں گے۔ دنیا افغانستان کی ترقی کے لیے ساتھ دے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں