تبدیلی کا راستہ مشکل ہے،کا میابی کا کو ئی شارٹ کٹ نہیں ،وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد(نیوزٹویو)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تبدیلی کا راستہ انتہائی کٹھن ہے کامیابی کا شارٹ کٹ ہے نہ ہی کوئی پرچی پکڑ کر لیڈر بن سکتا ہے۔اپوزیشن منتخب حکومت گرانے کیلئے فوج کے پیچھے پڑی ہےیہ بھارتی لا بی کی خواہش ہے کہ فوج کو بدنام کیا جا ئے ہمیں اپنی افواج پر اعتماد ہے جانے والے حکمران بیس ارب ڈالر کا خسارہ چھوڑ کر گئے، اقتدار میں آئے تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، تحریک انصاف نے معیشت کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا، آج خسارہ ایک اعشارہ آٹھ ڈالر کی سطح پر آگیا اسلام آباد میں تحریک انصاف حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے اقتدار سنبھالتے ہی مشکل وقت آن پڑا تھا۔ ہماری ٹیم نئی تھی، کسی چیز کا پتا نہیں تھا۔ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں مجبوراً آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ اس موقع پر سعودی عرب اور چین مدد نہ کرتے تو ہمارے لئے بہت مشکل ہوتی۔وزیراعظم نے کہا کہ مشکل وقت میں رونا دھونا نہیں چاہیے، یہ اللہ کا نظام ہے۔ کرکٹ میں جب مشکل وقت آتا تھا تو پورا تجزیہ کرتا تھا۔ ہم نے مشکل وقت میں غلطیوں سے سیکھنا ہے۔ دنیا میں کوئی بھی لیڈر شارٹ کٹ سے نہیں بنتا۔ ایسے نہیں ہو سکتا کوئی پرچی پکڑ کر لیڈر بن جائے۔ میں قائداعظم کو لیڈر مانتا ہوں جنہوں نے اپنی ذات نہیں بڑے مقصد کے لیے جدوجہد کی۔ دنیا کا کوئی بھی لیڈر کڑی محںت کے ذریعے اوپر آتا ہے۔ عمران خان نےتین سالہ حکومتی کارکردگی کےحوالےسے کہا کہ اقتدار میں آئے تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، ہم مجبوراً آئی ایم ایف کے پاس گئے، ایسا کرنے سے ان کی شرائط کوبھی ماننا پڑتا ہے۔ اس کی شرائط کو پورا کریں تو عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہےاس کے بعد پلوامہ کا واقعہ ہو گیا۔ پلوامہ واقعے پر میں پاک فوج کا شکر گزار ہوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے پاس ایسی فوج ہے لیکن اپوزیشن فوج پر تنقید کرتی ہے اور اس کے پیچھے پڑی ہے منتخب حکومت کو گرا دے جبکہ بھارتی لابی چاہتی ہے کہ پاکستان کی افواج کو بدنام کیا جائے۔بھارت نے افواج پاکستان کے خلاف پورا محاذ بنایا ہوا ہے۔ ہمیں اپنی افواج پر اعتماد تھا۔ افواج پاکستان نے نریند مودی کو دلیرانہ جواب دیا۔عالمی وبا کورونا  کے سدباب کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ اگر ہم غلط فیصلہ کر لیتے تو بھارت کی طرح لوگوں نے بھوکے مرنا تھا۔ پارلیمنٹ میں مجھے اپوزیشن نے بھارت کی طرح لاک ڈاؤن کا مشورہ دیا لیکن این سی او سی نے بڑے اچھے فیصلے کیےمیں ڈاکٹر فیصل سلطان اور اسد عمر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔اپوزیشن نے لاک ڈاؤن کے حوالے سے پریشر ڈالا لیکن ہم نے غریب آدمی کا سوچا۔ اسی وجہ سے اللہ نے ہمیں بچا لیا۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی کورونا پالیسی کو سراہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں