دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان میں قدم رکھنے کی اجازت نہ دی جائے،اسلامی تعاون تنظیم کی نئی افغان قیادت سےا پیل

جدہ (نیوزٹویو) اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) نے امارت اسلامیہ افغا نستان کی نئی قیادت اورعالمی برداری سے اپیل کی ہے کہ فریقین مل کر افغانستان کو دہشت گردی کا ٹھکانہ بننے سے روکیں افغانستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بنے دیں اور دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان میں قدم رکھنے کی اجازت نہ دی جائے تمام فریق افغان عوام کے مفاد میں تشدد ترک کر دیں اوآئی سی کی تنظیم کا اعلیٰ سطحٰی وفد بھی افغانستان بیھجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے او آئی سی کی مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس اتوار کو افغانستان کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے منعقد ہوایہ اجلاس مستقل نمائندوں کی سطح پر سعودی عرب کی درخواست پر بلایا گیا۔اسلامی تعاون کی تنظیم کی مجلس عاملہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں اوآئی سی نے افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ او آئی سی کے تمام رکن ممالک افغانستان میں امن و سلامتی اور ترقی و استحکام کے  لیے مدد کریں گے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ روا داری کے علمبردار اسلامی اصولوں،  انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے اعلان کے مطابق پروقار زندگی اور امن و امان کے حوالے سے افغان عوام کے حقوق کا احترام کیا جائے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اسلامی سربراہ کانفرنس، مسلم وزرائے خارجہ کانفرنس، دیگر اجلاسوں اور افغانستان میں امن و استحکام کے حوالے سے مسلم علما کی کانفرنس کی تمام قراردادوں کے مطابق افغانستان اور اس کے عوام کی مدد کے عہد پر قائم تھے ہیں اور رہیں گے۔او آئی سی نے قومی مصالحت، بین الاقوامی معاہدوں کے احترام اور اقوام متحدہ کے منشور میں مذکور قواعد و ضوابط کی پابندی پر زور دیا گیا۔اعلامیے میں کورونا وبا، قحط اور ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر پناہ گزینوں کی تعداد بڑھ جانے اور افغانستان میں انسانی صورتحال بگڑجانے پر شدید تشویش ظاہر کی گئی۔او آئی سی نے رکن ممالک، اسلامی مالیاتی اداروں اور دیگر شریک فریقوں سے اپیل کی کہ انتہائی مشکل حالات سے دوچار علاقوں میں انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کی ترسیل جلد از جلد کریں- محفوظ انخلا کے عمل میں آسانی پیدا کریں- افغانستان چھوڑنے کے خواہشمند شہریوں کو ملک سے جانے کی اجازت دیں- 

 افغانستان کے تمام فریقوں کے درمیان جامع مکالمے کی ضرورت اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا کہ  تمام فریق افغان عوام کے مفادات کو سب سے اوپر رکھیں۔ تشدد ترک کریں۔ معاشرے میں امن وامان کا تحفظ  کریں۔ پائدار امن کے لیے کام کریں۔ خوشحالی، پروقار زندگی اور امن و استحکام کے حوالے سے افغان عوام کی امنگیں پوری کریں۔اجلاس کے شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ افغان فریق پرامن طریقے سے اختلافات حل کریں۔ توجہات کا محور عوام کی ترقی و خوشحالی کو بنائیں۔اجلاس نے مطالبہ کیا کہ او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ کا اعلی سطح کا ایک وفد افغانستان کا دورہ کرے اور تنظیم کا پیغام پہنچائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں