سپریم کورٹ کا ہندو بچےکوگرفتارکرنے والےایس ایچ اوکوگرفتاراورکچے کا علا قہ ڈاکوؤں سےکلیئرکرانےکاحکم

اسلام آباد(نیوزٹویو) سپریم کورٹ نے رحیم یارخان بھو نگ مندر کیس میں ہندو بچے کو گرفتار کرکے تھانے میں بند کرنے والے ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کرنے اور کچے کا علا قہ ڈاکوؤں سے صاف کرانےکا حکم دے دیا ہے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ صرف محکمانہ کاروائی کی کافی نہیں بلکہ اس کو گرفتار ہونا چاہیے متعلقہ ایس ایچ او کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا عدالت نے ایک ہفتے میں ملزمان کی شناخت کا حکم جاری کر دیا سپریم کورٹ نے یہ حکم رحیم یار خان مندر حملہ ازخودنوٹس میں جاری کیا جمعہ کورحیم یار خان بھونگ مندر سانحہ کے ازخود نوٹس کیس کی سما عت ہو ئی سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر متعلقہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو طلب کرلیا ہے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتا یا کہ مندر پر حملہ کرنے والے پچانوے افراد کو گرفتار کیا ہے۔گرفتار افراد کے چہرہ شناسی کے لیے نادرا سے معاونت کی جارہی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا پر چلنے والی فوٹیج میں سب کے چہرے واضح تھےپہچانے جاسکتے ہیں آپ نے نادرا کو خط لکھ دیا ہوگا اور نادرا کی مرضی بے شک دوسال بعد جواب دے پولیس کا کام خط لکھنا نہیں خط بابو لکھتے ہیں پولیس نے کارروائی کرنی ہوتی ہے ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ نادرا فوری تعاون کررہاہے، عدالت میں پیش کرنے کے لیے متعلقہ ثبوت نادرا کے ذریعے حاصل کیے جارہے ہیں۔بھونگ میں ہندو اور مسلمان صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں۔وہاں ایسا کوئی مسلہ نہیں تھا سوشل میڈیا کے ذریعے اس کو ہوا دی گئی۔وہاں پولیس اور رینجرز سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 250 کے قریب نفری تعینات ہے۔ رئیس منیر کے وکیل نے کہا کہ ہم نے مندر کے لیے زمین دی تھی اب بھی مندر کے ساتھ 5 ایکڑ زمین ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر کے لیے دی ہےوہ علاقہ تین صوبوں کا جنکشن ہے اور ساتھ دریاے سندھ کے کچے کا علاقہ ہےکچے کے دھاڑیل اور ڈاکووں نے مقامی لوگوں کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے۔لوٹ مار کرتے ہیں اور مقامی لوگوں کی بیٹیاں اغوا کرلیتے ہیں ہم چاہتے ہیں ان ڈاکووں کی روک تھام کے لیے وہاں پر انٹر چینج بنای جاۓ تاکہ صادق آباد سے فاصلہ پانچ منٹ کا رہ جاۓ گاسپریم کورٹ نے کچے کا علاقہ ڈاکووں سے کلیئر کرانے کا حکم دیتے ہو ئے کہا کہ ڈاکووں سے کلیئر کروا کر کچے میں امن بحال کیا جائے پنجاب حکومت اور آئی جی کچے میں سکیورٹی یقینی بنائیں چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان بنے اتنا عرصہ ہوگیا ہم ڈاکوؤں سے جان نہیں چھڑوا سکے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ کچے کا علاقہ سندھ کیساتھ بھی لگتا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ ہر طرف سے ملکر کارروائی کریں تو کیسے نہیں کام ہوتاعدالت نے مندر پر حملے کے ملزمان کی ایک ہفتے میں شناخت کرنے کا حکم جاری کیا اور کہا کہ ملزمان کی شناخت کے بعد گرفتار بے گناہ افراد کو رہا کیا جائےملزمان کی شناخت کے بعد ٹرائل کورٹ میں چالان پیش کیا جائےٹرائل کورٹ بغیر کسی التواء کے چار ماہ میں فیصلہ یقینی بنائے عدالت نے کہا کہ ہمیں آگاہ کیا گیا ہے کہ مندر کے اندرونی حصے کی بحالی مکمل ہوچکی مندر کے بیرونی حصے کو ایک ماہ میں مکمل کیا جائےعدالت نے گاؤں بھونگ میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی برقرار رکھنے کی ہدایت کر دی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں