مدرسہ طالبہ زیادتی کیس،ایڈیشنل سیشن جج کامیڈیکل رپورٹ میں زیادتی ثابت ہونے کے باوجود ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

اسلام آباد(نیوزٹویو)راولپنڈی کے تھانہ پیر ودھائی کی حدود میں مدرسہ کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کیس میں ایڈیشنل سیشن جج ملک اعجاز آصف نے میڈیکل رپورٹ میں لڑکی سے زیادتی ثابت ہو نے کے باوجود ملزم مفتی شاہ نوازکی گرفتاری غیرقانونی قرار دے کراسےفوری ضمانت پررہا کرنے کا حکم دے دیا

عدالت نے اپنے حکم نامہ میں کہا کہ سیشن عدالت نے ملزم کی عبوری ضمانت منظور کی،پولیس نے اختیارات سے تجاوز کیاگرفتار ملزم کو فوری رہا کرنے کا حکم،ملزم اور تفتیشی ٹیم30 اگست کو عدالت مکمل ریکارڈ سمیت طلب کرلیا فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج ملک اعجاز آصف نے گرفتارملزم کی اہلیہ کی درخواست پرسنایا ایڈیشنل سیشن جج نے عبوری ضمانت منظور کر کے ملزم کو30 اگست تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا،تفتیشی ٹیم کا کہنا تھاکہ مقدمہ میں زیادتی تصدیق ہونے پر نئی دفعات عائد کیں،گرفتار ی قانون کے مطابق ہے۔تفتیشی ٹیم نے درخواست خارج کرنے کی استدعا کی ملزم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے تفتیش کی اجازت دی جائے وکیل صفائی کا کہنا تھاکہ عدالت نے عبوری ضمانت منظورکی۔۔ پولیس نے کچہری دروازے پر گرفتارکرلیا،ہم انصاف کیلئے کہاں جائیں،اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والی پولیس افسران خلاف ایکشن لیا جائے۔۔ وکیل صفائی نے مزید کہا کہ گرفتار ملزم کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا جائے واضح رہے کہ طالبہ پر تشدد اور زیادتی کا مقدمہ 17 اگست کو تھانہ پیر ودھائی میں درج کیا گیا راولپنڈی پولیس نے مدرسے میں طالبہ سے زیادتی کرنے والے ملزم کوایک ہفتے بعد گرفتارکیا تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں