مسلم لیگ ن کی حکومتی ڈیجٹیل میڈیا سے متعلق رپورٹ مفروضہ قرار،ریحام خان کا نام ریاست دشمنوں کی فہرست میں آنےپردکھ

اسلام آباد( نیوزٹویو) مسلم لیگ (ن) نے حکو مت کی ڈیجٹیل میڈیا سےمتعلق رپورٹ کو مفرضوں پر مبنی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جبکہ رپورٹ میں لیگی کارکنوں پر بھارتی میڈیا وار کا حصہ بننے کا الزام لگنے پر ن لیگ کی سنئرقیادت نےسخت ردعمل کا اظہارکرتے ہو ئے کہا ہے کہ حکومت نے135صفحات کی رپورٹ صرف مفروضے پر تیار کی۔ صحافت پر رپورٹ میں صحافیوں اور سیاستدانوں کو اسرائیل اور بھارت کے برابر لاکھڑا کیا ہے حکومت ما رشل لا حکومتوں کی نقل کررہی ہے تمام مارشل لا حکومتوں کے دورمیں سیاسی جماعتوں کو ریاست کا دشمن کہا گیا اب نام نہاد حکومت انہیں کے پیچھے چل رہی ہے مسلم لیگ ن کے رہنماسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق وفاقی وزرا مریم اورنگزیب اور خرم دستگیر کےہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئےکہا کہ ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق رپورٹ حکومتی میڈیا ونگ نے جاری کی ہے اس بات پر دکھ ہے کہ رپورٹ میں کئی جگہ پر وزیراعظم کی سابقہ اہلیہ کا نام بھی ہے۔ حکومتی رپورٹ میں ریحام خان کو بھی ملک دشمن افراد میں شامل کیا گیا ہے۔ فرحت اللہ بابر، رحمان اور بشریٰ گوہر کا نام بھی رپورٹ میں آیا ہے  حکومتی رپورٹ میں نہ گہرائی ہے نہ تجزیہ۔ ٹویٹس پڑھی نہیں گئیں صرف ہیش ٹیگ کی بنیاد پر رپورٹ بنائی گئی

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ رپورٹ میں ایشیا، مڈل ایسٹ کے نقشے میں کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا۔ کیا وزرا نے اس رپورٹ کو پڑھا تھا؟ یہ ڈیٹا کینیڈا کی کمپنی سے لیا گیا جس نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔ اہلیت ہوتی تو اپنے ملک سے ڈیٹا اکٹھا کرتےانہوں نے کہا کہ حکومت کی جاری کردہ رپورٹ میں زیادہ تر سیاستدانوں کا تذکرہ ہے۔ ڈیٹا اکٹھا کرکے رپورٹ تیار کی گئی۔ نام نہاد حکومت نے خود رپورٹ پڑھی ہی نہیں ہے۔ کرپشن اور نااہلی کی بات کریں تو نیشنل سیکیورٹی کا ایشو بن جاتا ہے۔ کیا مہنگائی اور حکومتی کارکردگی کے خلاف بولنا جرم ہے؟انہوں نے کہا کہ حکومت جھوٹ بولنے میں مہارت رکھتی ہے۔ حکومت کیخلاف بولنے والے کو ریاست دشمن کہا جاتا ہے۔ حکومتی پالیسیوں سے پاکستان تنہا ہو چکا ہے۔ حکومت کا مقصد ملکی حالات سے توجہ ہٹانا ہے۔ رپورٹس، ٹویٹس اور جھوٹ بولنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے ایسی باتیں کی جا رہی ہیں۔اس موقع پر سابق وزیرتجارت اورمسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیرنے کہا کہ انتہائی گمراہ کن اور غیر معتبر رپورٹ ہے۔ اگر ہم نے ریاست مخالفت کا اندازہ لگانا ہے تو وزیراعظم نے ایران میں کہا تھا کہ پاکستان کی طرف سے در اندازی ہوتی ہے، کیا یہ ریاست مخالف بیان نہیں ہے؟ کونسل فار فارن ریلیشن میں عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان کی آرمی نے القاعدہ کو ٹریننگ دی، اگر یہ ریاست مخالف بیان نہیں تو کس کو کہیں گے؟خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان کی رٹ کو چیلنج کرنے والے تو دندناتے پھر رہے ہیں۔ آئین پر عملداری کرنے والوں کو ریاست مخالف کہا جا رہا ہے۔ آئین پاکستان پر عملداری کا مطالبہ ریاست مخالف نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں