نورمقدم قتل کیس،تھراپی سنٹر کے مالک اوردیگر پانچ ملزمان کی ضمانتیں منظور

اسلام آباد(نیوزٹویو)ڈسٹرکٹ کورٹ نے مورمقدم قتل کیس میں گرفتار تھراپی سینٹر کے سی ای او طاہر ظہور سمیت6ملازمین کی ضمانت بعد ازگرفتاری کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عطاء ربانی کی عدالت سے جاری فیصلہ میں عدالت نے تھراپی سینٹر کے سی ای او طاہرظہور، ملازمین دلیپ کمار، عبدالحق،ثمر عباس، وامق ریاض اور امجدمحمود کی پانچ پانچ لاکھ روپے مالیت مچلکوں اور ایک ایک شخصی ضمانت پر رہائی کا حکم دیتے ہوئے کہاہے کہ تھراپی کلینک ٹیم کے ارکان نورمقدم کے بعد موقع پر پہنچے، ٹیم کے ارکان ظاہر جعفر کو قابو کرتے ہوئے خود بھی زخمی ہوئے، تھراپی کلینک کے ارکان نے شواہد ضائع کیے یا نہیں یہ ٹرائل میں پتہ چلے گا، ایسے حالات میں گرفتار ملزمان کو طویل عرصہ تک جیل میں نہیں رکھاکاسکتا، درخواست گزار وکیل کے مطابق ملزمان کا ماضی میں کوئی کرمنل ریکارڈ موجودنہیں، طاہرظہورنامور تھراپسٹ ہیں بوڑھے اور متعدد امراض میں مبتلا ہیں، ملزمان نے ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر کے کہنے پر ٹیم کو بھیجا، ایڈیشنل پراسیکیوٹر پولیس نے موقف اختیار کیا مل ملزمان کا بھی وہی کردار ہے جو ظاہر جعفر کے والدین کا ہے، تھراپی ورک ٹیم کے پہنچنے سے قبل ہی ملزم ظاہر جعفر نور مقدم کو قتل کر چکا تھا، ظاہر جعفر کے حملہ کے نتیجے میں ورک سینٹر کا ممبر امجدمحمود زخمی ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں