پاکستان نے افغانستان سے افغان سفیر کی بیٹی تک رسا ئی مانگ لی،سلسلہ علی خیل تحقیقات میں مددکرے،پاکستان

 اسلام آباد(نیوزٹویو) پاکستان نے اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے واقعے کی تحقیقات کے لیے افغنستان سے سفیر کی بیٹی سلسلہ علی خیل تک رسا ئی کی درخواست کی ہےاورافغانستان سے مزید معلومات بھی مانگی ہیں دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی کے مبینہ اغوا کی تحقیقات کے لیے کابل سے ایک وفد یکم اگست کو اسلام آباد پہنچا تھا۔دورے کے دوران افغان وفد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وزارت خارجہ کے حکام سے ملاقات کی دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی حکام کی جانب سے افغان وفد کو واقعے سے متعلق تحقیقات کے تمام پہلوؤں پر جامع بریفنگ دی گئی۔وفد کو سیف سٹی کے دفتر لے جایا گیا جہاں ان کو مختلف مقامات کے متعدد ویڈیو فوٹیجز دکھائی گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ویڈیوز میں شکایت کنندہ کو واضح طور پہچانا جا سکتا ہے جس میں آزادانہ طور پر مختلف مقامات میں گھوم رہی ہیں وفد کو ان مقامات پر بھی لے جایا گیا جہاں شکایت کنندہ گئیں وفد کو بتایا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شکایت کی تفصیل اور مکمل تفتیش کی ہے اور کہا گیا کہ شکایت کنندہ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔وفد کو اسلام آباد میں افغانستان کے سفارت خانے اور قونصل خانوں کی سکیورٹی بڑھانے کے اقدامات سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔پاکستان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ بیان میں اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ افغانستان کا سفارتخانہ جلد ہی معمول کے آپریشنز شروع کر دے گا۔

 یا د رہے کہ افغانستان نے سولہ 16 جولائی کو افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے واقعہ کے بعد پاکستان سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا بعدازاں افغان حکومت نے اسلام آباد میں اپنے سفیر کی بیٹی کے اغوا کے بعد سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر اپنے سفیر اور دیگر سفارت کاروں کو واپس کابل بلالیا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں