ہائیکورٹ میں میڈیکل کالجز میں داخلوں کے نئے رولز کے خلاف درخواست پر پاکستان میڈیکل کونسل اورفریقین کونوٹسسز

اسلام آباد(نیوزٹویو)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی عدالت میں زیرِ سماعت میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں داخلوں کے نئے رولز کے خلاف کیس میں متفرق درخواست پر پاکستان میڈیکل کونسل سمیت دیگر فریقین کوجواب کیلئے نوٹسسز جاری کردیے۔گذشتہ روز سماعت کے دوران پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی ایسوسی ایشن( پامی) کی جانب سے وکیل اشتر اوصاف اور بیرسٹر اسد رحیم عدالت پیش ہوئے، دوران سماعت اشتر اوصاف ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ پاکستان میڈیکل کمیشن نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں فیسوں اور مارکنگ کے حوالے سے کیا گیا نوٹیفکیشن واپس لے لیا، پی ایم سی کے فیسوں اور مارکنگ کے نئے رولز سے متعلق نوٹیفکیشن واپس لینے پر ہم عدالت سے کوئی آرڈر نہیں مانگتے،وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ مرکزی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے جبکہ پی ایم سی کو نئے رولز پاس کرنے اور اس پر عملدرآمد سے روکا جائے، پی ایم سی کو میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں کو دبانے اور مکمل کنٹرول کرنے سے روکا جائے، پامی کے وکیل اشتر اوصاف نے کہا کہ پی ایم سی نے مرضی سے کالجز اور یونیورسٹیز کی کٹیگریز بنائیں ہیں، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ پی ایم سی نے کیٹیگری کیسے بنائیں؟ جس پر وکیل پامی نے کہا کہ کالجز اور یونیورسٹیز کو کٹیگریز پی ایم سی کا دائرہ اختیار کی نہیں، میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کے گریڈنگ کا اختیار ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے پاس ہے، تاہم عدالت نے رجسٹرار آفس کو کیس کا تحریری حکمنامہ پی ایم سی بیجھنے کا حکم کرتے ہوئےمذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر تک کیلئے ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں