آل پا کستان انجمن تاجران کا29ستمبر کو پی اوایس نظام کے خلاف ایف بی آر کے سامنے احتجاجی مظاہرے کا اعلان

اسلام آباد (نیوزٹویو) آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ نے کہا ہے کہ جس طریقے سے ایسٹ انڈیا کمپنی نے چند ہزار لوگوں کے ساتھ ہندوستان پر قبضہ کیا تھا اسی طرح ایف بی آر، آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے پاکستان بھر کے کاروبار پر پوائنٹ آف سیلز ڈیوائس نصب کرکے قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان بھر کی تاجر برادری سراپا احتجاج ہے اب تو ایف بی آر نے گلی محلوں کی چھوٹی دکانوں کو بھی سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے نوٹس جاری کرنا شروع کر دیے ہیں جو تاجر اپنا کھاتا نہیں لکھ سکتے وہ کم سے کم پچیس ہزار روپے ماہانہ پر منشی بھرتی کریں گے اور ان کو ہر ماہ ریٹرن جمع کروانی پڑے گی۔ کسی بھی غلطی کی صورت میں جرمانہ اور سزا کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ کرونا کی وجہ سے کاروبار سکڑ گیا ہے لیکن کرونا زدہ تاجروں کو رجسٹریشن کے نوٹس جاری کرنا شروع کر دیے ہیں جو سخت زیادتی ہے۔ ایف بی آر فوری طور پر پی او ایس کی تنصیب کا فیصلہ واپس لے ورنہ پاکستان بھر کے تاجر نمائندے 29 ستمبر کو ایف بی آر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے اور مطالبات کی منظوری تک دھرنا دیں گے۔

پاکستان فرنیچر ایسوسی ایشن کے چیئرمین زاہد حسین اور صدر تاج عباسی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھر کی تاجر برادری 29ستمبر کے احتجاج کی کال پر لبیک کہتی ہے اور تمام تنظیمیں احتجاج اور دھرنے میں شریک ہوں گی اور پی او ایس کی تنصیب کی سخت مزاحمت کریں گے۔ فرنیچر کا کاروبار ایک دکان میں نہیں ہوتا زیادہ ایریا درکار ہوتا ہے، رقبے کی بنیاد پر پی او ایس لگانا سخت زیادتی ہوگی۔آئی سی سی آئی کے سابق سینیئر نائب صدر اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے سیکریٹری خالد چوہدری اور ٹریڈرز یونین گولڑہ کے صدر فرحان خان نے کہا کہ پی او ایس کے ذریعے ایف بی آر تاجروں کے ڈیٹا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے تاجروں کے ڈیٹا کو لیک بھی کیا جاسکتا ہے۔ جن کاروباروں پر پی او ایس لگائے گئے ان کی سیلز میں30 فیصد تک کمی ہوئی سیلز میں کمی اور کورونا کی تباہی کی وجہ سے چھوٹے تاجر ٹیکس کی ادائیگی نہیں کر سکتے۔ وزیراعظم ایف بی آر کے ظالمانہ اقدامات کا نوٹس لیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں