ایف بی آر اور تاجروں کے درمیان مذاکرات کامیاب،مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے احتجاج کی کال موخر کردی

اسلام آباد(نیوزٹویو) فیڈرل بورڈ آف ریونیواور تاجر نمائندوں کی تنظیم مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے درمیان ٹیکس معاملات کے حوالے سے معاملات طے پا گئے ہیں جس کے بعد تاجر وں نے 27ستمبر کو ایف بی آر کے سامنے دی جانے والی ا حتجاج کی کال موءخر کر دی  ہے ممبرآپریشن ان لینڈ ریونیوکا کہنا ہے کہ پو ائنٹ آف سیل کا اطلاق چھوٹے تاجروں پر نہیہں ہوگا ایف بی آر کی جانب سے جاری اعلا میے کے مطابق ملک بھر کے چھوٹے تاجروں کا منتخب کردہ وفد کاشف چوہدری  کی صدارت میں  فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ گزشتہ چند دنوں سے رابطے میں تھا۔ چھوٹے تاجروں کے ٹیکس قوانین سوئم ترمیمی آرڈینینس 2021 پر موجود تذبذب کو دور کیا گیا اور اتوار 26 ستمبرکو ایف بی آر ہیڈ کوارٹر میں حتمی میٹنگ طے پائی جس میں ایف بی آر اور کاشف چوہدری  کی صدارت میں مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کےملک بھر سےآئے  منتخب راہنماؤں کے درمیان کامیاب مذاکرات طے پائے اور ٹیکس قوانین سوئم ترمیمی آرڈینینس  کے حوالے سے پائی جانے والی تمام الجھنوں کووضاحت کے بعد دورکر دیا گیا۔ ممبر آئی آر  آپریشنز اور تاجروں کےمرکزی راہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں متفقہ طور پر کئے گئے فیصلوں سے آگاہ کیا۔اس موقع پر ممبر آئی آر  آپریشنز نے کہا کہ تاجروں کی ٹیکس قوانین سوئم ترمیمی آرڈینینس پر پائی جانے والی غلط فہمیوں کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ انہوں نے تاجر راہنماؤں کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور یقین دہائی کروائی کہ ٹیکس قوانین سے متعلقہ تمام مسائل  باہمی بات چیت سے حل کر لئے جائیں گے جس کے بعد غیر ذمہ دار عناصر کوموقع نہیں ملے گا کہ و ہ سوشل میڈیا پر بے بنیاد پراپیگینڈا اور گمراہ کن معلومات پھیلا سکیں۔پریس کانفرنس میں ملک بھر سے آئے ہوئے چھوٹے تاجروں کے منتخب نمائندوں کی موجودگی میں ان کی نمائندگی کرتے ہونے صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری  نے 27 ستمبر 2021 کی دی گئی احتجاجی کال  کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔

ممبر آئی آر آپریشنز نے واضح طور پر کہا کہ پوائینٹ آف سیلز کا اطلاق  چھوٹے تاجروں پر نہیں ہوتا۔انکم ٹیکس آرڈینینس 2001 کی شق 114 بی کی وضاحت کرتے ہوئے ممبر آئی آر آپریشنز نے کہا کہ کہ کچھ شر پسند عناصر نےجنرل پبلک   کو گمراہ کیا ہے کہ ان کے بجلی اور گیس کے کنکشنز کو منقطع کر دیا جائے گا اور موبائل سمیں غیر فعال کر دی جائیں گی حالانکہ ایسا صرف ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جو کہ ایکٹیو ٹیکس پئیر لسٹ پر موجود نہیں۔انکم ٹیکس آرڈینینس 2001 کی شق 235 ذیلی شق 1اے کی وضاحت کرتے ہوئے ممبر آئی آر آپریشنز نے کہا کہ ٹیکس قوانین سوئم ترمیمی آرڈینینس 2021 میں متعارف کردہ بجلی کے بل پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح میں تبدیلی  کا اطلاق چھوٹے تاجروں اور انکم ٹیکس فائلرز پر نہیں ہو تا۔انہوں نےمزید کہا کہ اس شق کو متعارف کرنے کا مقصدٹیکس نا دہندگان پیشہ ور افراد کو  ٹیکس کے دائرہ کار میں لانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا  کہ اس  شق  کا اطلاق بجلی کے کمرشل صارفین پر نہیں ہو گا۔ کاشف چوہدری صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی سربراہی میں ملک بھر سے آئے چھوٹے تاجروں کی نمائیندگی کرنے والے وفد  میں خواجہ شاہد رزاق سکا، سرپرست اعلٰی مرکزی تنظیم تاجران پاکستان و صدر انجمن تاجران فیصل آباد، خواجہ سلیمان صدیقی ، چئیرمین مرکزی تنظیم تاجران پاکستان،شرجیل میر، صدر مرکزی تنظیم تاجران پنجاب  اور تقریبا” بیس سے زائد مرکزی تنظیم تاجران خیبر پختونخواہ، بلوچستان، سندھ اور پنجاب بھر سے آئے منتخب نمائندگان شامل تھے۔تمام تاجر راہنماؤں نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ و ہ ٹیکس قوانین کی تعمیل میں اہم مسائل پرایف بی آر سے تعاون بڑھانے کے لئے اپنا تعمیر ی کردار اد ا کرتے رہیں گے تاکہ ملکی معیشت مضبوط ہو اور وطن عزیز پاکستان معا شی طور پر خو د انحصار ی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں