ایون فیلڈ ریفرنس کی اپیلوں پرآئندہ سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی۔

اسلام آباد (نیوزٹویو)  اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اپیلوں پر سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔

سماعت کے دوران ملزمان کی جانب سے عطا تارڑ نے پیش ہو کر کہا کہ مریم نواز نے عرفان قادر کو اپنا نیا وکیل کیا ہے۔ جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپکو نہیں بلکہ عرفان قادر کو پیش ہو کر خود وقت مانگنا چاہیے تھا ۔ اس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ آپ تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔  عطا تارڑ نے کہا کہ ہماری جانب سے کوئی تاخیر نہیں کی جا رہی ہے۔ امجد پرویز بہت زیادہ بیمار ہیں۔ مریم نواز نے گزشتہ سماعت پر ایک نئی درخواست دائر کرنے کی استدعا کی تھی۔ عرفان قادر وہ درخواست تیار کر رہے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ امجد پرویز کو خود پیش ہو کر عدالت کو آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ امجد پرویز کو ایک درخواست اور میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کرنا چاہیے تھا ۔ وقت دے دیتے ہیں لیکن عرفان قادر عدالت میں خود پیش ہو کر بتائیں کہ وقت چاہیے ۔ عدالت عالیہ نے مریم نواز کے وکیل کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ مریم نواز نے کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو بھی کی ہے ۔ صحافی نے سوال کیا کہ ایک ایکسٹینشن پہلے دی گئی تھی اب چئیرمین نیب کو دی جا رہی کیا کہیں گی؟ مریم نواز نے کہا کہ پہلی والی ایکسٹینشن کے گناہ میں میں شریک نہیں تھی۔ صحافی نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے تو ووٹ دیا تھا۔ مریم نواز نے کہا کہ میں اُس  مسلم لیگ ن میں نہیں تھی۔ چئیرمین نیب کی توسیع کا باقاعدہ اعلان ہوا تو اپنا رد عمل دیں گے۔ حکومتی پالیسی ہے نیب سے اپوزیشن کا کردار نکال دیا جائے اور حکومتی وزرا کے بھائیوں کو ڈال دیا جائے ۔حکومت کا الیکٹرانک ووٹنگ کی بات کرنا دھاندلی کا ہی منصوبہ ہے ۔جس حکومت کی بنیاد ہی دھاندلی ہے اس کا شفافیت سے کیا تعلق ہے؟ حکومت کو چار سال بعد بھی دھاندلی کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں