برطانیہ کی ریڈ لسٹ میں پاکستان کا نام،معاملہ سرکاری سطح پر اٹھانے،فلمی صنعت کی بحالی،پیکج لا نےکا فیصلہ

اسلام آباد(نیوزٹویو)وفاقی کابینہ نے برطانیہ کی جانب سے پا کستان کومسلسل کورونا ریڈ لسٹ میں رکھنے پرشدیداعتراض کیا ہےاوروزارت خارجہ اور متعلقہ حکام کو برطا نیہ کے ساتھ سرکاری سطح پر یہ معاملہ اٹھا نے کی ہدایت کردی ہے وفاقی کابینہ نےفیصلہ کیا ہے کہ رواں ماہ پاکستان کا دورہ کرنے والی نیوزی لینڈ کی ٹیم کو مکمل سکیورٹی فول پروف سکیورٹی فراہم کی جا ئے گی کابینہ نے ملک میں فلمی صنعت کی بحالی کے لیے بھارت کے سوا دیگر تمام بین الاقوامی فلموں کی درآمدکی اجازت دینے اورغریبوں کی زمینوں پر ہا وسنگ سوسائیٹوں پر پا بندی کے لیے جامع پالیسی لا نے کا بھی فیصلہ کیا ہے وفاقی کابینہ کے اجلاس کیے گئے فیصلوں سے متعلق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے برطانیہ کی جانب سے کورونا ریڈ لسٹ میں رکھنے پر شدید اعتراض کیا ہے اس معاملہ کو فوری طور پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم کے زیر صدارت اجلاس میں برطانوی حکومت کی جانب سے بیان کردہ وجوہات غیر تسلی بخش قرار دی گئی ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق وفاقی وزراء اسد عمر، بابر اعوان اور شیخ رشید نے ریڈلسٹ پرشدیداعتراضات کا اظہار کیا۔ وفاقی وزراء کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کو چھوڑ کر پاکستان کو ریڈ لسٹ پر برقرار رکھا گیا۔ 9 ستمبر کو چارٹر طیارے کی پاکستان لینڈنگ کی منظوری روک دی گئی۔کا بینہ میں مجرموں کی حوالگی سے متعلق میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یو) پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ اپوزیشن غیر سنجیدہ اور نااہل ہے، اس سے زیادہ نالائق حزب اختلاف کسی حکومت کو نصیب نہیں ہوئی، انہیں انتخابی اصلاحات میں کوئی دلچسپی نہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی سیاست صرف عدالتوں سے تاریخوں کے حصول تک محدود ہے، شہید بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی جوکروں کے ہاتھ میں ہے، بلاول بھٹو اور مریم نوازصرف دھاندلی سے ہی وزیراعظم بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غریبوں کا بہت زیادہ استحصال کیا گیا ہے، خصوصاً اسلام آباد میں گاؤں میں زمین پر قبضہ کر لیا گیا، زمین جن کی ملکیت تھی ان سے لے لی گئی اور من پسند بیورو کریٹس، ججز اور صحافیوں کو یہ پلاٹس دے دیے گئے اور ایک بہت بڑی تعداد میں صحافیوں کو یہ پلاٹس ملے ہیں۔ وزیر اعظم نے اسد عمر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں شیریں مزاری، شہزاد اکبر اور فروغ نسیم موجود ہیں اور یہ کمیٹی ایک جامع پالیسی لے کر آئے گی اور ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے گا جس میں غریب لوگوں کی زمینوں کو ہتھیایا نہ جا سکے اور بڑے لوگ وہاں اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی نہ بنا سکیں۔

انہوں نے کہاکہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان آ رہی ہے اس کے دورے کے لیے سکیورٹی منصوبے کی منظوری دی گئی ہے، کیویز کا گزشتہ دورہ پاکستان سیکیورٹی کے اعتبار سے خوش کن نہیں تھا لیکن اس کو مدنظر رکھتے ہوئے غیرمعمولی سیکیورٹی نیوزی لینڈ کی ٹیم کو فراہم کی جائے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ تاریخ میں عمران خان کی حکومت الیکٹرول ریفارمزکی بات کررہی ہے، کبھی نوازشریف، آصف زرداری کے منہ سے الیکشن اصلاحات کی بات نہیں سنی۔ یہ پاکستان میں ایک دفعہ بھی دھاندلی کے بغیرالیکشن نہیں جیتے، یہ سسٹم کوتبدیل نہیں کرنا چاہتے۔فواد چودھری نے کہا کہ الیکشن اصلاحات کے لیے ہم ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔ اپوزیشن کوالیکشن اصلاحات میں کوئی دلچسپی نہیں۔ مسلم لیگ، پیپلزپارٹی کی سیاست صرف عدالتوں سے تاریخیں ملتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں افغانستان کے حوالے سے بات ہو رہی ہے، پیپلز پارٹی کبھی کبھی پی ٹی ایم کے ایجنڈے کو تھوڑا سا آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ بینظیر بھٹو کی پارٹی اس وقت سیاسی جو کر کے ہاتھ میں ہے۔ چاہے اصلاحات میڈیا، الیکٹرول سسٹم، گورننس نظام میں ہوصرف تحریک انصاف بات کررہی ہے۔ عوام کی مدد سے ہم ساری اصلاحات لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فیصل کی برطانیہ کے چیف میڈیکل سائنٹسٹ سے ریڈ لسٹ کے متعلق بات ہوئی ہے اور کافی حد تک ہم نے ڈیٹا سے متعلق ان کے تحفظات کو دور کردیا ہے۔ فواد چودھری نے کہا کہ سینما انڈسٹری کی بحالی کے لیے ہم نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ غیربھارتی پنجابی فلموں کو پاکستان میں سینما میں لگایا جائے، کابینہ نے کہا ہے کہ آپ اسے صرف پنجابی فلموں تک محدود نہ رکھیں بلکہ بھارت کے علاہ تمام بین الاقوامی فلموں کی پاکستان میں درآمد کی اجازت دی جائے لہٰذا اب ہم سمری کو ترمیم کے بعد دوبارہ پیش کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں