تیل اور گیس تلاش والی کمپنیاں حکومت کی اربوں روپے کی مقروض،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی انہیں بلیک لسٹ کرنے کی ہدایت

اسلام آباد(نیوزٹویو) پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی نے تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے اربوں روپے کی ادائیگیوں میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کی ہدایت کی ہے،کمیٹی نے عدالتوں میں سالوں سے زیرالتوا مقدمات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے اجلاس میں بلانے کی ہدایت کردی ہےکمیٹی کا اجلاس کنوینر سید نوید قمر کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاؤہ سیکرٹری پٹرولیم سمیت آڈٹ اور دیگر حکام نے شرکت کی  اجلاس میں وزارت پٹرولیم کے حکام نے بتایا کہ تیل اور گیس کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کے ذمے بقایا جات ہیں اور بہت زیادہ معاملات عدالتوں میں زیرالتوا ہیں جس پر کنوینرکمیٹی سید نوید قمر  نے کہا کہ ایسی تمام کمپنیوں کو بلیک لسٹ کریں جو ادائیگیاں نہیں کررہے ہیں  اور ان کمپنیوں کو کسی قسم کا کام نہ دیا جائے انہوں نے وزارت پٹرولیم میں سالوں سے زیر التوا مقدمات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مختلف کمپنیوں کے ساتھ مقدمات 10سالوں سے زیرالتوا ہیں اور افسران عدالتوں کے پیچھے چھپنے کی کوششں کرتے ہیں انہوں نے حکام کو معاملات 2ماہ میں حل کرنے کی ہدایت کی آڈٹ حکام نے بتایا کہ بجلی پیدا کرنے والے اداروں کے ذمے 73ارب روپ روپے سے زائد بقایا جات ہیں جس پر کنوینر کمیٹی نے کہا کہ حکومت کے اربوں روپے مختلف اداروں کے پاس پھنسے ہوئے ہیں اور افسران ان اداروں کے ساتھ ملے ہوۓ ہیں کنوینر کمیٹی نے کہا کہ بدقسمتی سے آج ہر شخص اداروں کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرکے التوا کا باعث بنتے ہیں انہوں نے وزارت پٹرولیم کے حکام کو ہدایت کی کہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کو حل کرنے میں تیزی دکھائیں اور اس سلسلے میں آٹارنی جنرل آف پاکستان سے رہنمائی حاصل کریں کمیٹی نے اڈٹ اعتراضات کو مؤخر کرتے ہوئے آگلے اجلاس میں آٹارنی جنرل سمیت وزارت قانون کے حکام کو معاونت کے لیے بلانے کی بھی ہدایت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں