ججز بیوروکریٹس کوا ضافی پلا ٹس کی ا لاٹمنٹ کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر فریقین کو نوٹسز جاری

اسلام آباد(نیوزٹویو)اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اعلی عدلیہ کے ججز اور بیوروکریٹس کو اضافی پلاٹس کی الاٹمنٹ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل میں فریقین کو جواب کیلئے نوٹسز جاری کردیے۔گذشتہ روز سماعت کے دوران اپیل کنندہ جیورسٹ فاؤنڈیشن کے ریاض حنیف راہی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، جیورسٹ فاونڈیشن نے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر نیب تحقیقات کی بھی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیاکہ ججز اور اعلیٰ افسران کے اضافی پلاٹس صرف غیرقانونی قرار دینا بے سود ہوگا،ججز اور بیوروکریٹس کو دو، دو پلاٹس کے لیے قانون سازی کی ہدایت غیرقانونی عمل کو قانونی نہیں کرسکتی، گریڈ 22 کے افسران کو ایک سے زائد پلاٹس کی الاٹمنٹ غیر قانونی قرار دے دی گئی،عدالت نے لکھ دیا کہ کابینہ اس کی منظوری دے سکتی ہے،اگر کوئی جرم ہوا ہے تو اس کی سزا ہونی ہے، اس کی منظوری نہیں دی جا سکتی،چیف جسٹس نے کہاکہ یہ تو وفاقی حکومت نے دیکھنا ہے اور فیصلہ تو قانون سازوں نے ہی کرنا ہے، آپ کیا چاہتے ہیں کہ ہم اس عدالتی فیصلے کو کاالعدم قرار دے دیں؟،وکیل نے کہاکہ میری پٹیشن جزوی طور پر منظور ہوئی، میں چاہتا ہوں کہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی ریکوری بھی کی جائے،یہ 45 ارب روپے تک کی رقم بنتی ہے جو ریکور کی جانی چاہئے،نئے قانون وسل بلور ایکٹ کے تحت اب کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو بھی اس کا 20 فیصد ملنا ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے یہ درخواست مفاد عامہ کے تحت دائر کی تھی یا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، عدالت نے درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔یاد رہے کہ انٹراکورٹ اپیل میں وفاقی حکومت، سی ڈی اے،سیکرٹری داخلہ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں