حکومت ایف بی آر میں سیاسی مداخلت کے خاتمے کےلیےآپریشنل اور مالیاتی خودمختاری دے گی،وفاقی وزیرخزانہ

اسلام آباد(نیوزٹویو) وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو شوکت ترین نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو آپریشنل اور مالیاتی خودمختاری دینے کے لئے پر عزم ہے تاکہ سیاسی مداخلت کے امکان کو رد کیا جاسکے اور ادارے میں شفافیت ، میرٹ اور بہترین خدمات کے اصولوں کو پروان چڑھایا جا سکے یہ بات انہوں نے ایف بی آر ہیڈکوارٹر کے دورہ کے دوران سینئر افسران سے خطاب کے دوران کہی انہوں نے پچھلے مالی سال   میں  کرونا وبا کے باعث پیداکردہ مشکلات کے باوجود ایف بی آر کا ٹارگٹ سے زائد ریونیو حاصل کرنے پر ایف بی آر کی تعریف کی۔ انہوں نےمزید کہا کہ ایف بی آررواں مالی سال بھی 5829 ارب روپے کا ریونیو ہدف حاصل کرنے کے لئے پر عزم ہے اور اس کی روشن مثال رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ہدف سے 160 ارب روپے زائد ریونیو کاحصول  ہے۔وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو نے کہا کہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ کی کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلے میں ایف بی آر، نادرہ  اور پرائیویٹ سیکٹر سے ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو کہ انتھک محنت سے کام کر رہی ہیں۔ ان کمیٹیوں کے فرائض کے بارے میں مزید کہا کہ یہ کمیٹیاں ایف بی آر کے وسائل باالخصوص بجٹ اور لاجسٹکس کی ضروریات کا بھی جائزہ لے رہی ہیں تاکہ ان درپیش مشکلات کو دور کرنے کے لئے سفارشات پیش کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پوائینٹ آف سیلز نظام ایف بی آر کا ایک اور اہم اقدام ہے جس کی وجہ سے ریٹیلرز  کی سطح پر تمام ٹرانزیکشنز ریکارڈ ہو سکیں گی اور ملکی ریونیو میں اضافہ ہو گا۔

وزیر خزانہ نے ٹریک اینڈ ٹریس پراجیکٹ پر ہونے والی پیشرفت کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ اس پراجیکٹ کا آغاز نومبر سے کر دیا جائے گا کیونکہ اس حوالے سے ہائی کورٹ میں دائر کیا جانے والا کیس خارج ہو چکا ہے اور وزارت خزانہ نے پراجیکٹ کے لئے 432 ملین روپے کے فنڈز بھی جاری کردیئے ہیں۔ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ خودکار ٹیکس نظام کی بدولت شفافیت آئے گی اور صوابدیدی اختیارات میں کمی آئے گی جو کہ کاروباری کمیونٹی کا ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹائزیشن کے لئے درکار فنڈز کے اجراء کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ آئی ٹی نظام اور سائیبر سیکیورٹی کے لئے 3.8 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ رواں ہفتہ جاری کی جا چکی ہے۔پاکستان سنگل ونڈو پراجیکٹ کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ اس پراجیکٹ کے تحت 70 مختلف محکمے ایک پلیٹ فارم پر لائے جاسکیں گے جو کہ کاروباری کمیونٹی کی سہولت کے لئے کام کریں گے جس کی وجہ سے ملکی تجارت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے ایف بی آر پر زور دیا کہ اگلے چھ سے آٹھ سالوں میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 20 فیصد لانے کے لئے کوششیں کریں۔ وزیر خزانہ نے نیشنل ٹیکس کونسل کے ذریعے وفاق اور وفاقی اکائیوں کے درمیان سیلز ٹیکس میں ہم آہنگی لانے کی ایف بی آر کو کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے ٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ نظام کی تعریف کی اور کہا کہ یہ ایک اہم اقدام ہے جس کی تکمیل کے بعد وسطی ایشیاء سے جنوبی ایشیاء پر مشتمل سار خطہ ایک دوسرے سے منسلک ہو جائے گا۔ انہو ں نے مزید کہا کہ سمگلنگ کی روک تھام حکومت وقت کی اولین ترجیح  ہے اور وزیر اعظم اس حوالے سے نہایت سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے وسائل کی کمی کے باوجود ایف بی آر کی سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نےفرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہو جانے والے کسٹمز اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ آخر میں وزیر خزانہ نے اس امید کا     اظہا ر کیا  کہ ایف بی آر 5.8 کھرب کا ہدف نہ صرف حاصل کرے گا بلکہ اس ہدف سے بڑے مارجن سے تجاوز کرے گااس سے پیشترچئیرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد اشفاق احمد نے وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو کا ایف بی آر آنے پراستقبال کیا۔ انہو ں نے کہا کہ وزیر خزانہ کے ساتھ ہونے والے اس سیشن کی بدولت ایف بی آر افسران کو ان کے ویثرن کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور افسران ان کے ویثرن کی تکمیل کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔ چئیر مین ایف بی آر نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح تجارت اور بزنس کو فروغ دینا ہے باالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروبار کے لئے قوانین اور طریقہ کار میں آسانی لانا ہے تاکہ معاشی سرگرمیاں تیز ہو سکیں۔ اس ویثرن کا ادراک کرتے ہوئے ایف بی آر نے بہت سے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔چئیرمین ایف بی آر نے وزیر خزانہ کے ویثرن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی لیڈرشپ میں معاشی استحکام کا حصول ممکن ہوا ہے جو کہ اس سے پہلے کافی حد تک ناممکن نظر آ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاشی استحکام کی وجہ سے خوشحالی آئے گی ، روزگار میں اضافہ ہو گا اور لوگ معاشی طور پر خوشحال  ہوں گےاپنی تقریر کے اختتام پر چئیرمین ایف بی آر نے وفاقی وزیر خزانہ کو یقین دہانی کرائی کہ ایف بی آر رواں سال 5.8 کھرب روپے کے تعاقب کے محصولات کو یقنی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش بروئے کار لائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں