حکومت پوائنٹ آف سیلز کی تنصیب کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ صدرآل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ

اسلام آباد(نیوزٹویو)آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے کہا ہے کہ عملاً ایف بی آر کی طرف سے مختلف کاروبار پر پوائنٹ آف سیلز ڈیوائس لگانے کی اسکیم ناکام ہوچکی ہے۔ جن اداروں میں ڈیوائس نصب ہوچکی ہے ان کے کاروبار میں کمی ہوئی ہے گاہک جانتے ہیں کہ ایسی دکانوں سے خریداری سے ان کا تمام ریکارڈ ایف بی آر کے پاس منتقل ہو جاتا ہے جس سے مستقبل میں ان کے لئے مشکلات ہو سکتی ہیں۔ اب شناختی کارڈ طلب کرنے کی ضرورت نہیں خریدار کا تمام ڈیٹا خودبخود منتقل ہو جائے گا یہی وجہ ہے کہ ایسی دکانیں یا ادارے جن پر ڈیوائسز لگ چکی ہیں ان کی سیل میں واضح کمی ہوگئی ہے۔ آئندہ چند روز میں ایف بی آر ایسی دکانوں سے خریداری کرنے والوں کے لئے انعامی اسکیم متعارف کروانے جا رہا ہے۔ اجمل بلوچ نے مزید کہا کہ دکانوں پر ڈیوائس لگانے کا مطلب ہے ان کے کاروبار پر قبضہ کرنا اور معلومات حاصل کرنا۔ اس سے کاروباری خفیہ راز بھی منتقل ہو جائیں گے اور معلومات کو کسی بھی موقع پر استعمال کیا جاسکے گا، یہ تمام ایجنڈا آئی ایم ایف کا ہے۔ اس سے بہتر ہے کہ فکس ٹیکس یا خود تشخیصی نظام اپنایا جائے۔ کسی بھی مرحلے پر حکومت یا ایف بی آر نے تاجر نمائندوں سے مشاورت نہیں کی جس کی وجہ سے بداعتمادی کی فضا قائم ہے۔ اب تو ایف بی آر اہلکار گلی محلوں کی چھوٹی چھوٹی دکانوں پر بھی جا رہے ہیں اور سیلز ٹیکس میں زبردستی رجسٹر کر رہے ہیں تمام دکاندار اتنے تعلیم یافتہ نہیں کہ وہ ہر ماہ ریٹرن فائل کریں۔ فیکٹریوں کی سطح پر سیلز ٹیکس وصول کیا جانا چاہئے جہاں ایف بی آر آسانی سے مانیٹرنگ کرسکتا ہے، انہوں نے وزیر خزانہ شوکت ترین سے مطالبہ کیا کہ پی او ایس کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں