حکومت کاچیف الیکشن کمشنر کےخلاف توہین عدالت کی کارروا ئی کا عندیہ، فواد چوہدری اور شبلی فراز کی پریس کا نفرنس

اسلام آ با د (نیوزٹویو) وفاقی وزیراعطلاعات فواد چودھری نے الیکشن کمیشن کے ممبران  کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسرے ممبران آگے بڑھیں اور چیف الیکشن کمشنر کے فیصلوں پر نظرثانی کریں۔ہر وہ کام جو حکموت کرنا چاہے اپویشن اس کے خلاف کھڑی ہو جا تی ہے یہ حکومت کی اس قدر مخالف ہیں کہ شیطان بھی دھرنا دے تومریم نواز اور اپوزیشن ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ہروہ کام جوحکومت نے کرنا ہے اپوزیشن اس کیخلاف کھڑی ہوجاتی ہے۔اتوار کو شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے وزیراطلاعاتنے کہا کہ اپوزیشن کی ہٹ دھرمی سے لوگوں کا جمہوریت سے اعتماد ختم ہوگا۔ اپوزیشن انتہائی نالائق بچےجیسی ہےجس نےکبھی اسکول کاکام ہی  نہیں کیا۔ فواد چودھرینے کہا کہ ہم اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ مل کر فیصلہ کرنا چاہتے ہیں کہ الیکشن کیسے کرانے ہی۔ انہوں نے کہا 2023 کے الیکشن اصلاحات کے بعد ہی کراۓ جائیں گے وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی کے لیے جاسکتے ہیں۔ لیکن ابھی تک ہم نے صبر کا مظاہرہ کیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے الیکشن کمشنرکی سرگرمیاں متنازع ہیں، وہ اپوزیشن کی زبان بول رہے ہٰیں الیکشن کمیشن نے ای وی ایم پر بھونڈے اعتراضات لگائے، چیف الیکشن حکومتی انتخابی اصلاحات کے مخالف لگ رہے ہیں،انہوں نے کہا  کہ الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر 2 الگ چیزیں ہیں، الیکشن کمیشن نے اپنی رپورٹس میں ای وی ایم کے حق میں پوائنٹس غائب کر دیئے، ای وی ایم کے حق میں مواد کو ضائع کر دیا گیا، الیکٹرونک ووٹنگ مشین کیخلاف مہم چلائی جا رہی ہے، 2011 سے بحث ہو رہی ہے شفاف انتخابات کیلئے ای وی ایم پر جانا ہوگا۔ الیکشن کمشنر سیاست کرنا چاہتے ہیں تو استعفیٰ دے کر کریں، الیکشن کمشنر کی سرگرمیاں متنازعہ ہیں، فلپائن سمیت بہت سے ممالک میں ای وی ایم سے کامیاب انتخابات کرائے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں