طالبان حکومت کی سی پیک میں شمولیت کی خواہش،پا کستان کا موقف قابل تحسین ہے،طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد

کابل(نیوزٹویو)افغانستان کی طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سی پیک میں شمولیت کی خواہش کا اظہارکرتے ہو ئے افغانستان کے بارے پا کستان کے موقف کوقابل تحسین قراردیا ہے اور کہا ہےکہ عالمی برادری کے افغانستان سے روابط ضروری ہیں  سی پیک منصوبہ اہم ہے لیکن تھوڑی تحقیق کی ضرورت ہےافغانستان میں قیام امن کے بعد اول ترجیح تجارت کا فروغ ہے۔ چاہتے ہیں کہ افغانستان کو پشاور سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں سے منسلک کیا جائے۔میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ افغان قوم ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرے خواہش مند ہیں کہ اب افغانستان میں تعمیری کام ہوں، سڑکیں، پل اور لوگوں کے لیے گھر بنیں تاہم ساتھ ہی انہوں ںے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی لڑائی یا حملے کی خواہش رکھتا ہے تو اسے سخت جواب دیا جائے گاافغان حکومت کے نائب ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور اس کا مؤقف قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر اور ازبکستان سمیت بعض دیگر ممالک نے بھی مثبت مؤقف اپنایا ہے۔

طالبان ترجمان نے کہا کہ 6 روز قبل چین اور روس نے بھی ہمای حکومت کے حق میں اقوام متحدہ میں بات کی۔ کئی ممالک نے امریکہ اور عالمی برادری کے سامنے ہمارے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ انہوں ںے واضح کیا کہ ہم کسی کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے ہیں بیشتر مقامی علمائے کرام، عمائدین اور مجاہدین ہمارے ساتھ ہیں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پنج شیر میں لڑائی ختم ہوچکی ہے۔ افغانستان کو تجارت اور اقتصادی امور میں ہمسایہ ممالک کی ضرورت ہے۔ انہوں ںے توقع ظاہر کی کہ ہمسایہ ممالک افغانستان سے متعلق اپنا مثبت کردار جاری رکھیں گے۔ افغانستان کے ساتھ عالمی برادری کے روابط ضروری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں