ملک میں ڈینگی نے خطرے کی گھنٹی بجادی،ہسپتالوں میں سینکڑوں مریض،حکمران ڈینگی سے غافل ہیں،شہبازشریف

لا ہور(نیوزٹویو)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے کہا ہے کہ حکمران ڈینگی سے غافل ہیں اس کا نتیجہ لوگوں کی زندگیوں کے ضیا ع کی صورت میں نکلے گا ڈینگی سے عوام کی زندگیوں کے لئے خطرات سنگین سے سنگین تر ہورہے ہیں لاہورسے جاری بیان میں شہباز شریف نے کہاکہ حکمران غافل ہیں۔ ڈینگی انتہائی مہلک ہے،،غفلت کا نتیجہ لوگوں کی قیمتی زندگیوں کے ضیاع کی صورت نکلے گا۔ حکومت ہمارے دور میں بنائے ہوئے ڈینگی ڈیش بورڈ سمیت دیگر طریقہ کار کو اپنا کر اس مہلک وبا سے عوام کو محفوظ بناسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈینگی سے نمٹنے کا پورا نظام، تربیت یافتہ عملہ اور طریقہ کار موجود ہے، اگر ڈینگی بے قابو ہوا تو یہ صرف اور صرف مجرمانہ انتظامی نااہلی ہوگی۔

دوسری جانب کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ اب ڈینگی نے بھی سر اٹھانا شروع کردیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، کراچی، لاہوراور پشاوربری طرح ڈینگی کی لپیٹ میں آرہے ہیں اوراب تک ا ن بڑے شہروں میں ڈینگی کے سینکڑوں کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جب کہ ملک میں 6 افراد جانوں کی بازیاں بھی ہار چکے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد میں ڈینگی کے 17 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 17 مریضوں میں سے 14 کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے جب کہ 3 شہری علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ڈینگی کے کل مریضوں کی تعداد بڑھ کر 94 ہو گئی ہے جن میں سے 67 مریضوں کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے جب کہ 27 شہری علاقوں کے رہائشی ہیں۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بھی ڈینگی کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے تحت اسپتالوں میں اس وقت ڈینگی سے متاثرہ 39 مریض زیر علاج ہیں۔اس ضمن میں اسپتال کے ذرائع سے ہم نیوز نے بتایا ہے کہ پشاور کے دو تدریسی اسپتالوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار ڈینگی ٹیسٹس کیے گئے تو ان میں سے 275 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں اسپتال ترجمانوں کے مطابق خیبر ٹیچنگ اسپتال میں 30  اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ڈینگی کے 9 مریض زیر علاج ہیں۔ ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کا تعلق پشاور کے نواحی علاقوں ، تہکال ، سفید ڈھیری اور اکیڈمی ٹاؤن سے ہےجبکہ ضم شدہ اضلاع کے علاقوں سربند اور لنڈی کوتل میں بھی ڈینگی پھیلنے لگا ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے اسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ مریضوں کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کریں۔

سندھ میں بھی بارشوں کے بعد ڈینگی کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں ماہ سندھ میں 338 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 239 کیسز کا تعلق کراچی سے ہے۔ شہر قائد میں ڈینگی سے متاثرہ 4 افراد اپنی جانوں کی بازیاں بھی ہار چکے ہیں۔صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کراچی کے ضلع وسطی میں سب سے زیادہ 83 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ ضلع شرقی میں 51، جنوبی میں 37، کورنگی اور ملیر میں 23/23 اور ضلع غربی میں 21 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔صوبائی محکمہ صحت کےمطابق کراچی میں ڈینگی سے متاثرہ چار افراد کی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جن میں سے تین کا تعلق ضلع وسطی اور ایک کا تعلق ضلع شرقی سے تھا

صوبہ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ اجلاس کی صدارت کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں کورونا کے پھیلاؤ میں کمی آئی ہے لیکن پنجاب میں ڈینگی سے سر اٹھا لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈینگی کے اب تک 700 سے زائد مریض سامنے آچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور میں سب سے زیادہ ڈینگی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومت میں صحت کے شعبے میں 50 فیصد آسامیوں پر تعیناتیاں نہیں ہوتی تھیں۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ حکومت نے اسپتالوں کو وافر بجٹ فراہم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصل آباد کے ٹیچنگ اسپتالوں کے لیے 9 ارب روپے کا بجٹ منظور کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں