مولانافضل الرحمن کا افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین،ختم ںبوت قانون میں نقب لگانے نہیں دینگے،ختم نبوت کانفرنس خطاب

راولپنڈی(نیوزٹویو) جمعیت علمائےاسلام  ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے یوم دفاع پر افواج پا کستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہو ئے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے دور میں جو امتحان آیا وہ پہلے کبھی نہیں آیا ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے  تحفظ ختم نبوت و یوم دفاع پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے کیا  کا نفرنس سے عالمی مجلسِ تحفظ ختم نبوت کے رہنما مفتی شہاب الدین پوپلزئی سمیت راولپنڈی کی تاجر تنظیموں کے قائدین شاہد غفور پراچہ شرجیل میر و دیگرنے بھی خطاب کیا مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ شمع رسالت کے پروانوں تاجدارِ ختم نبوّت کی ناموس کیلئے قربان دینے والوں بزرگوں جوانوں دوستو میں عالمی مجلسِ تحفظ ختم نبوت کا شکر گزار ہوں انہوں نے اس مقدس مقصد کیلئے مجھے بھی اس قابل سمجھا میں بھی اس میں شریک ہو کر سرکار کی شفاعت کا حقدار بن جاؤں عقیدہ ختم نبوت کے قلعے میں نقب لگانے والوں کو روکنے آور عقیدہ تحفظ کیلئے ایک چوکیدار کا کردار ادا کرتے ہیں امت غافل بھی ہو جائے تو کام جاری رکھتے ہیں یوم دفاع کے موقع پر افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں افواج پاکستان نے بھارت کو دنداں شکن جواب دیا اور سرحدوں کا دفاع کیا تھاختم نبوت کے ان پروانوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہون جنہوں نے سپاہی کا کردار ادا کیا ہےبرصغیر کا سب سے بڑا فتنہ قادیان سے اٹھا تو پنجاب کے علما میدان میں نکلےاس فتنے کو للکارا تو پوری قوم نے لبیک کیاقادیانی ہو یا لاہوری غیر مسلم قرار دیئے گئے ان افراد کی روح کو تسکین ہوئی ہوگی جنہوں نے قربانیاں دیں آج کا اجتماع بھی ایسا ہی یے موجودہ حکمرانوں کے دور میں جو امتحان آیا اس سے پہلے کبھی نہیں آیا تھاجن کے ایجنڈے پر یہ بات موجود ہو کہ ناموسِ رسالت کے قانون کو ختم کیا جائےقادیانی کو غیر مسلم قرار دینے کی شق کو ختم کیا جائےان غلام گردشوں کے کس کوچے میں کون کہا کر رہا ہے انکے مقاصد کیا ہیں ختم نبوت کانفرنس سے عالمی مجلسِ تحفظ ختم نبوت کے رہنما مفتی شہاب الدین پوپلزئی نےخطاب کرتے ہو ئے کہا کہ دعوت و تبلیغ میں جو شخص لگا ہوا یا تحفظ ختم نبوت پر لگا ہؤا ہےمیں ان سب کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اس مجلسِ بنیادی مقصد قادیانیت کو بتا دینا ہے یہ یہ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشاق ہیں قادیانی نے جب شرارت کی تو ان کے تابوت میں ہمیشہ کیل ٹھوکی گئی قادیانیوں کے خلاف جب تحریک چلی تو انکا وزیر خارجہ وزارتِ سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا ایک مطالبہ اس وقت بھی رہ گیا تھا کہ کسی کلیدی عہدے پر قادیانی نہیں ہو گااگر ریاست مدینہ کا تصور پیش کرنا ہے تو ابو بکر صدیق سے سیکھنا ہوگا کہ تحفظ ختم نبوت کس طرح کیا جاتا ہے ہم چاہتے ہیں جس پر جرم ثابت ہو چکا تو ان کو اس طرح چھوڑنا مناسب نہیں ڈاکٹر علامہ اقبال نے کہا تھا قادیانی ملک اور اسلام کے غدار ہیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد پر سب مبارک باد پیش کرتا ہوں مرکزی انجمن تاجران پنجاب و راولپنڈی کے رہنما شاہد غفور پراچہ نے ختم نبوّت کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئےکہا کہ قادیانی چاہے تعداد میں تھوڑے ہیں لیکن مسلمانوں کو ورغلاتے ہیں ہر مرتبہ کانفرنس ہوتی رہی آخری کانفرنس موتی مسجد میں ہوئی صحن بھر گیا لوگ باہر کھڑے تھے اسی دن فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ ختم نبوت کانفرنس لیاقت باغ میں ہو گی آور آج ہو رہی ہے قاضی مشتاق اور تمام رفقاء کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ تاجروں میں تحریک پیش کی مسلمان ہر چیز برداشت کر سکتے ہیں مگر اپنے دین اور اپنے نبی پر بات نہیں برداشت کر سکتےمولانہ فضل الرحمان کو یقین دلاتا ہوں ملک و دین کیلئے سر کٹانے کیلئے تیار ہیں یہ ملک ہم سب کی پہچان ہے اس ملک کے بارےمیں بھی سوچنا ہےجو ملک کے خلاف چلے اس کے بارے میں بھی سوچنا ہےوہ مصنوعات جو قادیانیوں کی ہیں تاجر وعدہ کریں انکا مکمل بائیکاٹ کیا جائگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں