نورمقدم قتل کیس،مرکزی ملزم کے والدین ذاکر جعفر اورعصمت آدم جی کی درخواست ضمانت پرفیصلہ محفوظ

اسلام آباد(نیوزٹویو)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق کی عدالت نے نورمقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی درخواست ضمانت بعدازگرفتاری پر وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔گذشتہ روز سماعت کے دوران مدعی مقدمہ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور عدالت پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی آرڈیننس کے تحت نور مقدم کیس کا ٹرائل سپیشل کورٹ میں ہونا چاہیے،جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ قانون پروسیجرل ہوتا ہے. آرڈیننس کی مدت اب ختم ہو چکی ہے،کیس کا ٹرائل سپیشل کورٹ کے نہیں بلکہ سیشن کورٹ کے طور پر ہونا ہے، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیاکہ آپ کیا کہتے ہیں کہ ایک بار کی سپیشل کورٹ ہمیشہ کیلئے سپیشل کورٹ ہے،آپکے دلائل سے لگتا ہے کہ آپ ٹرائل کو تاخیر کا شکار کرنا چاہتے ہیں،شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہاکہ میرا قطعاً مقصد کیس کو تاخیر کا شکار کرنا نہیں ہے، عدالت نے کہاکہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ٹرائل کورٹ کا اختیار نہیں تو اس متعلقہ عدالت میں یہ درخواست دیں،اس بات کا ضمانت کی درخواستوں سے کیا تعلق ہے،اسی دوران ایس ایس پی انوسٹی گیشن عطا الرحمان عدالت کے سامنے پیش ہوئے اورعدالت نے کہاکہ آپ کے لوگ کام نہیں کرتے،ان کو ہدایت کریں کہ اپنا کام ٹھیک سے کریں،آپکو بس یہی کہنے کیلئے بلایا تھا آپ جا سکتے ہیں،جس کے بعد شاہ خاور ایڈووکیٹ نے عدالتی فیصلوں کے حوالہ جات پیش کرتے ہوئے کہاکہ کال ڈیٹا ریکارڈ 18 سے 20 جولائی کا ہے،عدالت نے کہاکہ ہمارے پاس ٹرانسپکرپشن نہیں کہ کال پر کیا بات ہوئی؟ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیاکہ اندازاً قتل کا وقت کیا ہے ؟ جس پر شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہاکہ سوا سات سے ساڑھے سات بجے کے درمیان شائد یہ واقعہ ہوا،عدالت نے کہاکہ سات بجے کے بعد مسلسل کالز کی گئیں، ڈیتھ کا وقت ساڑھے چھ بجے کے قریب ہو سکتا ہے،شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہاکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق نور مقدم نے 6:35 پر چھلانگ لگا کر جان بچانے کی کوشش کی،عدالت نے کہاکہ اس کا مطلب ہے کہ اس وقت نور مقدم زندہ تھی،پولیس کو واقعہ کس نے رپورٹ کیا اور کتنے بجے کیا ؟،سرکاری وکیل نے کہاکہ ایک زبیر نامی شہری نے 9:45 پر پولیس کو رپورٹ کیا،پولیس دس بجے تک موقع پر پہنچ گئی تھی،اس وقت تھراپی ورکس والے وہاں موجود تھے اور زخمی امجدہسپتال جا چکا تھا، شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہاکہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر وقوعہ کے روز اپنے والدین سے مسلسل رابطے میں تھا،چالان پیش ہو چکا ہے، فرد جرم عائد ہونی ہے، پراسیکیوشن نے 18 گواہ بنائے ہیں جن میں سے تین چار اہم گواہ ہیں، جلد ٹرائل مکمل ہو گا،ہم نے کیس میں غیر ضروری گواہوں کو شامل نہیں کیا،شواہد کے مطابق والدین ملزم سے رابطے میں تھے جرم سے ان کا تعلق ہے،ہم ٹرائل میں جو شواہد لائیں گے اس پر وہ جرح کر لیں گے،انتہائی بیہمانہ قتل تھا اس میں ضمانت نہ دی جائے،عدالت نے کہاکہ تھراپی ورکس والوں اور پٹیشنرز کا آپس میں کیا تعلق ہے؟،سرکاری وکیل نے کہاکہ ظاہر جعفر کی والدہ تھراپی ورکس والوں کے لیے بطور کنسلٹنٹ کام کرتی رہی ہیں،ذاکر جعفر نے تھراپی ورکس کے طاہر ظہور کو سات بجے کے بعد دو کالز کیں،6بجکر40 منٹ پر چوکیدار افتخار نے عصمت ذاکر کو کال کی، پولیس حکام نے کہاکہ ظاہر جعفر کے موبائل فون کی سکرین ٹوٹی ہوئی تھی،ایک آئی فون کا پاس ورڈ نہیں مل رہا،عدالت نے کہاکہ آج کل بہت ایکسپرٹ موجود ہیں، سب کچھ کرلیتے ہیں،  بدقسمتی سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ سے نہیں ہوا تو مارکیٹ سے کوئی ہیکر پکڑیں،اس موقع پر خواجہ حارث نے جوابی دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ ابھی نامکمل عبوری چالان پیش ہوا ہے،ذاکر جعفر نے 7 بج کر 7 منٹ پر تھراپی ورکس والوں کو گھر پہنچنے کا کہا، پولیس حکام نے کہاکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق تھراپی ورکس والے 8 بج کر 6 منٹ پر گھر پہنچ گئے تھے،گھر کے باہر پھرتے رہے، پھر سیڑھی لگا کر کھڑکی کے راستے 8 بج کر 45 منٹ پر گھر کے اندر داخل ہوئے،عدالت نے کہاکہ تھراپی ورکس والے کس وقت جائے وقوعہ پر پہنچے ؟،پولیس حکام نے کہاکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کیمطابق تھراپی والے8 بجکر6منٹ پر پہنچے، عدالت نے استفسار کیاکہ اور پولیس کس وقت جائے وقوعہ پر پہنچی ؟،جس پر پولیس حکام نے بتایاکہ پولیس10 بجے وہاں پہنچی تھی، عدالت نے کہاکہ اس کا مطلب ہے دو گھنٹے بعد پولیس پہنچی تھی،خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے کہاکہ ابھی نامکمل عبوری چالان عدالت میں پیش کیا گیا،اس سٹیج پر کوئی بھی بات شواہد کہیں ثابت شدہ نہیں ہے،اس موقع پر اُن شواہد پر ضمانت کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا،جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ یہ کیس ہمارے ملک میں کریمنل کیسز کا مستقبل طے کرے گا،واقعاتی شواہد کو کیسے جوڑنا ہے اسے سب نے دیکھنا ہے،وکلاء کے دلائل۔مکمل ہونے پر عدالت نے درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں