نورمقدم قتل کیس کے ملزمان کےجؤڈیشل ریمانڈ میں توسیع

اسلام آباد(نیوزٹویو)جوڈیشل مجسٹریٹ شعیب اخترکی عدالت نے نور مقدم قتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت والدین اور دیگر ملزمان کے جوڈیشل میں توسیع کردی ہے ۔گذشتہ روز سماعت کے دوران ملزمان کوسخت سیکیورٹی میں عدالت پیش کیاگیا،اس موقع پر ملزمان نے کمرہ عدالت کے باہر ویڈیو بنائے جانے پر میڈیا پر سخت غصے کا اظہار کیا، مرکزی ملزم کی گرفتار والدہ عصمت آدم جی نے نجی ٹی وی کے کیمرہ مین محمد خاقان سے موبائیل لیتے ہوئے کہاکہ کیوں ویڈیو بنا رہے ہیں اسے میرے سامنے ڈیلیٹ کریں، اس موقع پر میڈیا احتجاج پر خاموش تماشائی بنی پولیس نے بھی میڈیا نمائندگان پر ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کیلئے دباؤ ڈالا،مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے کہاکہ ہماری پرائیویسی ہے ویڈیو بند کریں،بعدازاں دوران سماعت عدالت نے ملزمان کی حاضری لگائی جبکہ پولیس کی طرف سے نور مقدم قتل کیس کا چالان ٹرائل کورٹ میں پیش کرتے ہوئےچالان میں ظاہر جعفر کو مرکزی ملزم قرار دے دیا، چالان میں ملزم کے والدین اور تھراپی ورک کے مالک اور ملازم بھی شریک ملزم قراردیتے ہوئے ظاہر جعفرکو نور مقدم کا قاتل قرار دیاگیا اورملزمان کو سخت سزا دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہاگیاکہ ملزمان کیخلاف ٹھوس شواہد شامل ہیں، کیس میں دیگر ملزمان پر اعانت اور جرم چھپانے کے تحت سزا کی استدعاکی گئی جن پر اعانت اور جرم چھپانے کے تحت سزا کی استدعا کی گئی، عدالت نے ملزمان سے کہاکہ آپ کے کیس کا چلان آگیا ہے اور 8 ستمبر کی تاریخ مقرر کررہے ہیں،عدالت نے سماعت 8ستمبر تک کیلئے ملتوی کردی۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے نور مقدم کیس میں ذاکر جعفر کی درخواست ضمانت پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ ہفتے تک پولیس سے ریکارڈ طلب کرلیا۔ملزم ذاکر جعفر نے خواجہ حارث ایڈوکیٹ کو اپنا وکیل کرلیا۔ درخواست گزار کے وکیل عدالت سے استدعا کی کی سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ضمانت پر رہا کیا جائے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ذاکر مدعی شوکت مقدم کو نوٹس جاری کردیا۔واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی ۔ملزم ذاکر جعفر اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں