سپریم کورٹ نورمقدم قتل کیس،ملزم ظاہر جعفر کی والدہ کے ملوث ہونے کے ثبوت طلب

اسلام آباد (نیوزٹویو) سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کی و الدہ عصمت جعفر کے کیس میں ملوث ہونے سے متعلق شوا کو انتہا ئی افسوسناک وا قعہ قرار دیا ہے اور مقتولہ کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے جسٹس عطا عمر بندیال نے کہا ہے کہ شفاف ٹرائل کا حق لازمی ہے تاہم مقدمہ نمٹانے میں تاخیر سے اضطراب بڑھتا ہے سوموار کوسپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت کے کیس کی جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ عصمت جعفر کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہاں ذکر ہے؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عصمت جعفر کا ہائیکورٹ کے فیصلے میں ذکر ہی موجود نہیں، ملزمان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ قتل کامقدمہ ظاہر جعفر پر ہے، والدین قتل کے وقت کراچی میں تھے جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم صرف کیس کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جسٹس قاضی امین نے کہا کہنور مقدم قتل کیس ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہےہمیں مقتولہ کے اہل خانہ سے ہمدردی ہےصرف کیس کے حقائق کو سمجھنے کے لیے آپ سے معلومات لے رہے ہیں اسی دوران کیس کی سماعت میں وفقہ ہو گیا  وقفہ کے بعد جب سماعت کا آغاز ہو ا تو جسٹس عمر عطابندیال نے بتایا وقفے کے دوران معلوم ہوا ہے کہ میری فیملی میں فوتگی ہوگئی ہے مجھےابھی فوری طور پر لاہور روانہ ہونا ہےآیندہ سماعت پر استغاثہ عصمت ذاکر کی حد تک شواہد پیش کرےجس پر ملزمان کے وکیل خواجہ حا رث نے کہا کہ تاحال فرانزک رپورٹس بھی موصول نہیں ہوئیں ہائیکورٹ نے دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم سے شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہوگا جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ اشفاف ٹرائل کا حق لازمی ہے تاہم مقدمہ نمٹانے میں تاخیر سے اضطراب بڑھتا ہے، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ چھ موبائل فونز کے علاوہ تمام فرانزک رپورٹس آ چکی ہیں عدالت نے مزید سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کر دی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں