صد رعارف علوی نےاسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب محمد عمیرکی اپیل مستردکردی،قانون کی آخری حد تک کا ررو ائی کا حکم

 اسلام آباد(نیوزٹویو)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےسابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب ، محمد عمیر ، کی اپیل مسترد کر دی ہے اور نیب کو کو محمد عمیر کے خلاف کارروا ئی کا حکم دیا ہے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب نے چیئرمین نیب کے  سروس سے نکالے جانے کے حکم کے خلاف صدر مملکت کے پاس اپیل دائر کی تھی محمد عمیر نے شرجیل انعام میمن ریفرنس میں 15 اصل پراپرٹی ڈیڈ چرائی تھیں انکوائری کے بعد نیب نے محمد عمیر کو نوکری سے نکالنے کا حکم جاری کیا تھاصدر مملکت نے نیب کی جانب سے محمد عمیر کو سروس سے فارغ کرنے کا حکم برقراررکھا ہے صدر مملکت کاکہنا ہے کہ جرم کی نوعیت کے اعتبار سے نوکری سے برخواست کرنے کی  سزا کافی نہیں ہے نیب  محمد عمیر کے خلاف قانون کی آخری حد تک کاروائی کرے  صدر عارف علوی نے کہا کہ محمد عمیر اہم کاغذات کے واحد نگران تھے اسٹیل کی الماری سے  کاغذات چوری ہوئےالماری تک رسائی صرف محمد عمیر کو حاصل تھی  عدالت میں کاغذ پیش کرنے کا وعدہ بھی کیاعین وقت پر عدالت کو کاغذات چوری ہونے کا بتایا گیا جس کی وجہ سے کیس میں ملوث افراد کو ضمانت مل گئی دباؤ ڈالنے کے بعد کاغذات برآمد ہوئے  اور نیب کو سبکی کا سامنا کرنا پڑانیب کی تحویل سے اصل کاغذات کی چوری   ایک گھناؤنا جرم ہے  صدر مملکت نے کہا کہ پاکستانی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی اوردھوکہ دیا گیا پاکستان کو کرپٹ  لٹیروں کی وجہ سے شدید نقصان اٹھانا پڑاپاکستان میں آتشزدگی کی وجہ سے ثبوتوں پر مشتمل عمارتیں  تک جل جاتی ہیں  صدر مملکت نے کہا کہ بیرون ممالک میں پاکستانی سیاستدانوں کے کرپشن کیسز میں بھی کاغذات چوری ہو جاتے ہیں کاغذات حادثاتی طور پر نہیں بلکہ ایک کرپٹ افسر نے جان بوجھ کر چرائے فائل میں سے صرف ضروری کاغذات چوری ہوئے ، باقی سب کاغذ موجود رہے صدرمملکت نے کہا کہ چوری کوئی باہر کا شخص نہیں بلکہ کیس کی تفصیلات جاننے والا شخص ہی کر سکتا ہے  میرے لیے اس کیس میں فیصلہ دینا نہایت باعث تکلیف ہےاس مجرمانہ فعل کی وجہ سے قوم کو اربوں روپے کا نقصان ہوانیب  سابقہ افسر کے خلاف قانونی کاروائی کرے   

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں