پیٹرول اور بجلی کے بعد سردیوں میں عوام پر گیس بم گرنے کوتیار،وزارت پیٹرولیم نے قیمتوں میں اضافے کاخدشہ ظاہر کردیا

اسلام آباد(نیوزٹویو)وزارت پیٹرولیم نے سردیوں میں گیس کی قیمتوں میں ا ضافے کا خدشہ ظاہر کردیا ہے اور بتا یا ہے کہ گھریلو صارفین کو سبسڈی کی و جہ سے گیس کا گردشی قرضہ 500ارب تک پہنچ گیاہےپاکستان میں سالانہ سات سے آٹھ  فیصد کنویں خشک ہو رہے ہیں عالمی سطح پر آئندہ تین ماہ میں ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہےیہ باتیں سیکریٹری وزارت پیٹرولیم ذاکر ارشد نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے اجلاس میں دوران بریفنگ بتائیں ۔ قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کا اجلاس چئیرمین احسان اللہ ٹوانہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ایران پاک گیس پائپ لائن، تاپی، پاک روس گیس منصوبے کی پیش رفت پر وزارت پیٹرولیم نے اراکین کو بریفنگ دی۔سیکرٹری پیٹرولیم ںے بتایا کہ تاپی منصوبہ پاکستان کے لیے سستا ترین منصوبہ ہےدس 10 ارب ڈالرز کے منصوبے میں پاکستان نے 20 کروڑ ڈالرز دینے ہیں جسے کے باعث پاکستان کو 1200 ایم ایم سی ایف ڈی گیس ملے گی۔ تاپی منصوبے سے گیس ایل این جی سے بھی سستی ملے گی انہوں نے کمیٹی اراکین کو بتایا کہ ملک میں ایل این جی اور گیس 4 ہزار600 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جب کہ گیس کا شارٹ فال آٹھ سو ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔وزیر اعظم نے گیس کی قیمتوں میں اضافے پر گذشتہ روز بریفنگ طلب کی تھی جس کے دوران انہوں نے گیس کی قیمتوں پہ نظرثانی کرنے اور صنعتوں کو ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کی ہدایات دی تھیں۔انہوں نے کہا کہ گیس کی قیمتوں میں کمی پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گردشی قرضہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں ںے انکشاف کیا کہ آئی ایم ایف سے بھی گردشی قرضے پر بات جاری ہے۔ گیس کی چوری سے سپلائی متاثر ہورہی ہے اور شارٹ فال بھی بڑھ رہا ہے۔پاکستان میں گیس کے زیادہ تر کنویں خشک ہو رہے ہیں۔ انہوں ںے کہا کہ تاپی منصوبہ پاکستان کے لیے سستا ترین منصوبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن امریکی پابندیوں کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ سکا ذاکر ارشد نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ سات سے آٹھ  فیصد کنویں خشک ہو رہے ہیں۔ انہوں ںے بتایا کہ او ڈی جی سی ایل کے گیس کے 10 کنویں خشک ہو چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں