بلاول بھٹو کا پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومتوں کو چیلنج،بتائیں کس ہسپتال میں مفت علاج ہوتاہے

گمبٹ(نیوزٹویو) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب اور خیبرپختونخواحکومتوں کو چیلنج کیا ہے کہ وہ بتائیں کہ ان صوبوں میں کہاں مفت علاج ہوتا ہے چیلنج کرتا ہوں گمبٹ جیسا ایک بھی ہسپتال ہو تو بتادیں ہمارے تین اسپتالوں کا بجٹ خیبر پختونخوا کے صحت کارڈ سے زیادہ ہے وسیلہ صحت کارڈ کا نام تبدیل کرکے صحت کارڈ رکھ دیا گیا ہے اس سے پہلے نواز شریف نے وسیلہ کارڈ کا نام تبدیل کر کے وزیراعظم ہیلتھ کارڈ رکھا تھا بلاول بھٹونے  جمعہ کوگمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں بون میرو ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کیا اور سندھ کے شعبہ صحتِ عامہ کی ترقی پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہو ئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے وژن کے تحت صحت عامہ کی مفت سہولیات کو پاکستان بھر میں فراہم کریں گے۔انہوں نے اعلان کیا کہ گمبٹ میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کا علاج 100 فیصد مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جیسا اور کوئی ہسپتال نہیں جہاں جگر، گردے، بون میرو اور کینسر کا مفت علاج کیا جاتا ہو۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد تھیلیسیمیا اور اس جیسی متعدد بیماریوں میں مبتلا ہیں اور بون میرو ٹرانسپلانٹ علاج کی سہولت کا مریضوں کی زندگیوں کے لیئے اچھا ثابت ہوگا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ گمبٹ میں کینسر کا علاج سو فیصد مفت اور عالمی معیار کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ٹریفک حادثات میں اضافے کی پیشِ نظر ریپڈ ریسپانس ایمرجنسی کی سہولت بھی شروع کی گئی ہے۔ اس کا مقصد دوسرے شہروں میں بھی اس طرح کے مراکز بھی کھولنا ہے تاکہ آتشزدگی اور حادثات سے شدید زخمی ہونے والوں کا بہترین علاج ممکن بنایا جا سکے۔ گمبٹ آج سے پاکستان میں شعبہ میڈیکل دارالخلافہ ہے۔انہوں نے کہا کہ میں ملک کی تمام صوبائی حکومتوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جیسا ایک ہسپتال بنائیں، جہاں جگر، گردے، بون میرو اور کینسر کا مفت علاج کیا جائے۔ سندھ نے لیور ٹرانسپلانٹیشن کے 550 مفت کیسز کرکے قومی یکارڈ توڑا ہے۔ ان کیسز میں سے 52 فیصد مریضوں کا تعلق سندھ، 29 فیصد کا تعلق پنجاب، 15 فیصد کا بلوچستان اور 3 فیصد کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جگر اور گردے کا ایک ادارہ ہے، جو ٹرانسپلانٹ کرتا ہے لیکن گمبٹ سے علاج کرنے والے پنجاب کے لوگوں کی تعداد مذکورہ ہسپتال میں علاج کرانے والے مریضوں سے زیادہ ہے۔ یہ شہید محترمہ بنظیر بھٹو کا وژن تھا کہ ملک میں صحت عامہ کے نظام کو بہتر بنایا اور بزرگوں کی زندگیوں کو بچایا جائے۔ یہی ویژن ہمارا پورے پاکستان کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں غریب شہریوں کے لیے وسیلہ صحت کارڈ متعارف کرایا گیا تھا۔ میاں صاحب آئے تو انہوں نے نام بدل کر اس کا نام پی ایم ہیلتھ کارڈ رکھ دیا، جبکہ اب پی ٹی آئی اسے صحت انصاف کارڈ کہتی ہے۔ نقل کرنے کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح سے وہ ہمارے کارڈ کو چلا رہے ہیں، وہ درست طریقہ نہیں ہے۔ ہم نے اسے غریبوں کے لیئے بنایا تھا، جبکہ ان کا کارڈ پرائیوٹ ہسپتالوں کو 5-6 لاکھ کی سبسڈی دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں