بلوچستان میں دھماکے،قبائلی رہنماہلاک،2پولیس اہلکاروں سمیت 17زخمی

ڈیرہ اللہ یار/دکی (نیوزٹویو) بلوچستان میں دستی بم اور بارودی سرنگ کے دھماکوں میں ایک قبائلی رہنما جاں بحق جبکہ دو پولیس اہلکاروں سمیت 17 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ وزیراعلی بلوچستان نے دھماکوں کی مذمت کی ہے مقامی لیویز فورس کے مطابق اتوار کو ضلع دکی کے علاقے تکڑی میں کچے راستے پر نامعلوم افراد کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگ پر قبائلی رہنما خواجہ محمد لونی کی پِک اَپ گاڑی چڑھ گئی۔دھماکے میں خواجہ محمد لونی شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں سول ہسپتال میں دم توڑ گئے۔

دوسرا دھماکا جعفرآباد کے ہیڈ کوارٹر ڈیرہ اللہ یار میں ہوا۔ ایس ڈی پی او خاوند بخش کے مطابق ’ڈیر اللہ یار کے صحبت پور چوک پر تعینات ٹریفک پولیس اہل کاروں کو نامعلوم افراد نے دستی بم حملے کا نشانہ بنایا۔ دھماکے میں دو ٹریفک پولیس اہلکار اور 15 راہ گیر زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو ڈیرہ اللہ یار سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں تین زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ پولیس کو ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ دستی بم سے حملہ کرنے والے موٹرسائیکل پہ سوار تھے جو مذموم حملہ کرنے کے بعد موقع سے فرار ہو گئے ہیں۔ پولیس سمیت دیگر متعلقہ ادارے جائے وقوع کے معائنے سمیت عینی شاہدین سے حقائق جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔  وا ضح رہے کہ بلوچستان میں رواں ہفتے کے دوران تشدد کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔پچیس 25جنوری کوبھی بلوچستان کے ضلع کیچ میں کالعدم تنظیم کے حملے میں 10 سیکورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہو ئے کہا ہے تخریب کار عناصر صوبے کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں۔دہشت گردی کی ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہو سکتےعوام کے تعاون سے صوبے میں دیرپا امن قائم کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں