دریائےراوی پر ہاؤسنگ سوسائٹی نہیں بن رہی،نیا شہر بسایاجارہا ہے،وزیراعظم عمران خان

لا ہور(نیوزٹویو) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دریائے راوی پر کوئی ہاؤسنگ سوسائٹی نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت نیا شہر بن رہا ہےاسلام آباد کے بعد دوسرا شہرہوگاجوپلاننگ کے تحت بنے گا۔ شایدراوی اربن پراجیکٹ کے حوالے سے شاید کسی کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ یہ کوئی ہاؤسنگ سوسائٹی ہے ممکن ہے کہ حکومت نے راوی اربن منصوبے کو درست انداز میں پیش نہ کیا ہو-اب اس منصوبے کو سپریم کورٹ میں درست انداز میں پیش کریں گے۔ہم عدالتوں کی بہت عزت کرتے ہیں وزیراعظم نے روڈا کے زیر انتظام رکھ جھوک کے مقام پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ بیس ارب ڈالر کا منصوبہ ہے، اس سے لوگوں کو نوکریاں ملیں گی، بغیر پلاننگ ہاؤسنگ سوسائٹیز بنتی جا رہی ہیں، شاید کسی کو غلط فہمی ہے کہ یہ ہاؤسنگ سوسائٹی بن رہی ہے، اسلام آباد کے بعد پلاننگ کے تحت دوسرا شہر بننے جا رہا ہے، دریائے راوی ختم ہوتا جا رہا ہے، منصوبے سے راوی کو محفوظ بنایا جائے گا، ہماری آبادی بڑھ رہی ہے، نئے شہروں کی ضرورت ہے، کراچی میں بھی کوشش ہے کہ ایک نیا شہر بن جائے، راوی سٹی کے ساتھ 2 کروڑ درخت لگائیں گے۔

یاد رہے کہ حکمران جماعت تحریک انصاف نے سال 2020 میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے مضافات میں دریائے راوی کے کنارے ایک نیا شہر بسانے کا اعلان کیاتھا۔ یہ شہر ایک لاکھ ایکڑ سے زائد زمین پر بسایا جانا تھا۔ دریا کنارے اس نئے شہر کی لمبائی 46 کلومیٹرتک ہونی تھی اور اس کو دنیا کا سب سے بڑا ریور فرنٹ کہا جا رہا تھااس کا پراجیکٹ ڈیزائن اور فیزیبلٹی سنگاپور کی ایک فرم ’مین ہارڈت‘ سے بنوائی گئی ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس منصوبے سے 8 ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری پاکستان آسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے پنجاب حکومت نے راوی اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی جس کے ذمہ اس پراجیکیٹ کی تکمیل تھی۔ اس اتھارٹی نے اپنے قیام کے فوری بعد ہی اس منصوبے کےلیے بڑے پیمانے پر زمین حاصل کرنا شروع کی۔ وزیر اعظم عمران خان نے منصوبےکا سنگ بنیاد 20 اگست 2020 کو رکھا تھا۔ راوی کے کنارے آبادیوں کو بھی گھر خالی کرنے کے نوٹس دے دیے گئے تھے جبکہ اس علاقے میں وسیع زرعی زمینوں کو حاصل کرنے اور سو کے قریب دیہات کو بھی خالی کرنے کا کام شروع کیا گیا۔ یہیں سے اس پراجیکٹ کے خلاف کسانوں اور علاقہ مکینوں نے احتجاجی اور قانونی جنگ کا آغاذ کیا۔ نہ صرف احتجاجی مظاہرے کیے گئے بلکہ لاہور لائی کورٹ میں درجنوں کی تعداد میں منصوبے کے خلاف درخواستیں دائر کی گئیں۔  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں