حکومت نے بیرون ملک پاکستانیوں کا ووٹ دینے کا حق ختم کردیا

اسلام آباد(نیوزٹویو) حکومت نےبیرون ملک پاکستانیوں کوپاکستان کے انتخابات میں ووٹ دینے کا حق  اور انتخابات الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے ذریعے کرانے کا قا نون ختم کردیا ہے قومی اسمبلی نے انتخابات کے حوالے سے سابقہ حکومت کی قانون میں کی گئی ترامیم کو ختم کر دیا ہے جبکہ مزید انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جمعرات کو قومی اسمبلی اجلاس کے دران انتخابات کا ترمیمی بل 2020 ایوان میں پیش کیا گیا۔ بل وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے پیش کیا وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قانون میں بہتری کی گنجائش رہتی ہے اور 2018 کے انتخابات میں کمی بیشی تھی جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔الیکشن ریفارمز کی آڑ میں اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہ لے کر ای وی ایم کا کہا گیا، ای وی ایم کے حوالے سے الیکشن کمیشن، فافن اور پلڈاٹ کا بھی مؤقف دیا گیا۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو کوئی بھی ووٹ کے حق سے محروم نہیں کر سکتا، اس حوالے سے ہمارے بارے میں افواہ ہے کہ شاید ہم اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے حق میں نہیں ہیں، ہم ای وی ایم ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں، ہم صرف ڈرتے ہیں کہ جب آر ٹی ایس بیٹھ سکتا ہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔وزیر قانون نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہے صرف وہ لوگ شامل نہیں ہیں جو باہر درختوں اور املاک کو آگ لگا رہے ہیں۔

وزیر قانون کے اظہار خیال کے بعد سپیکر نے انتخابات ایکٹ 2017ء میں مزید ترمیم کرتے ہوئے انتخابات ترمیمی بل 2022ء کی ترامیم پیش کرنے کی اجازت دے دی بعدازاں اسے شق وار منظور کرلیا گیا اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سمیت اوورسیز ووٹنگ کے حوالے سے سابق حکومت کی ترامیم ختم کردی گئیں۔بل کے مطابق انتخابات ایکٹ 2017ء کے سیکشن 94 اور سیکشن 103 میں ترامیم کی گئی ہیں۔ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کے لیے پائلٹ پراجیکٹ کرے، الیکٹرانک اور بایو میٹرک ووٹنگ مشینوں کا بھی ضمنی انتخابات میں پائلٹ پراجیکٹ کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں