وزارت داخلہ کاٹی وی چینل ‘اے آر وائی نیوز’ کا این او سی منسوخ،صحافتی تنظیموں کی مذمت

اسلام آباد(نیوزٹویو)وفاقی وزارت داخلہ نے نجی ٹی وی چینل ‘اے آر وائی نیوز’ کا این او سی منسوخ کردیا  ہےچینل کی انتظامیہ ،مختلف صحافتی تنظیموں اورسیاسی رہنماؤں کی جانب سے حکومت کے اس اقدام  کی شدید مذمت کی گئی ہے جبکہ وفاقی وزارت داخلہ سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ اے آر وائی کمیونیکیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ (اے آر وائی) نیوز کو جاری این او سی منسوخ کردیا گیا ہے اور اس پر فوری عمل درآمد ہوگا۔ اس ضمن میں بتایا گیا کہ ایجنسیوں کی جانب سے مخالف رپورٹس کی بنیاد پر مزید احکامات تک عمل درآمد ہوگا۔

اے آر وائی کی ویب سائٹ میں اس اقدام کو پاکستان مسلم لیگ(ن) کی سربراہی میں اتحادی حکومت کی جانب سے نیوز چینل سے منسلک 4 ہزار سے زائد میڈیا کارکنان کا معاشی قتل قرار دیا۔چینل نے ردعمل میں کہا کہ یہ صحافی برادری کے خلاف ایک نیا قدم ہے اور یہ بغیر کسی نوٹس کے کیا گیا ہےچینل کی انتظامیہ چینل کی نشریات معطل کرنے کے اقدام کی مذمت کرتی ہے، وفاقی حکومت چینل کو نشانہ بنا رہی ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے نیوز چینل کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کا جواب دینے کی مدت میں 15 اگست تک کی توسیع کرتے ہوئے اے آر وائی نیوز کو کیبل میں بحال کرنے کا حکم دے دیا تھا۔عدالت نے چینل کے وکیل کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما شہباز گل کو مزید عدالتی احکامات تک چینل میں پیش نہ کرنے کی یقین دہانی پر پیمرا کو چینل کا لائسنس معطل یا منسوخ کرنے سے 17 اگست تک روک دیا تھا۔جسٹس ذوالفقار احمد خان کی سربراہی میں سنگل جج بینچ نے کہا تھا کہ شوکاز نوٹس کا مناسب جواب جمع کرانے پر پیمرا چینل کی گزارشات پر غور کرنے کے لیے آزاد ہوگا اور مدعی کو اس بات کو یقینی بنانے کا منصفانہ موقع دیا جائے گا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں لیکن 17 اگست تک کوئی حتمی حکم جاری نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گِل کی جانب سے اے آر وائی سے بات کرتے ہوئے متنازع بیان کے سلسلے میں درج مقدمے کے تحت چینل کے سینیئر نائب صدر کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم سندھ ہائی کورٹ نے ان کا نام مقدمے سے خارج کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا تھا۔ پی ٹی آئی رہنما کے متنازع بیان پر 8 اگست کو کراچی کے علاقے میمن گوٹھ کے پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے میں اے آر وائی کے سی ای او سلمان اقبال، اینکر پرسنز ارشد شریف، خاور گھمن اور عماد یوسف کو مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔ایف آئی آر ریاست کی جانب سے میمن گوٹھ تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر انسپکٹر عتیق الرحمٰن نے درج کروائی تھی جس میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 121، 505، 153، 153-اے، 131، 124-اے، 120، 34 اور 109 شامل کی گئی تھیں۔ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ اے آر وائی نیوز کی جانب سے 8 اگست کو نشر ہونے والے نیوز بلیٹن کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس میں شہباز گل نے پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز ریمارکس ادا کیے۔ایف آئی آر میں الزام لگایا تھا کہ پروگرام میں اس طرح کے خیالات کا اظہار کر کے پی ٹی آئی اور اے آر وائی نیوز واضح طور پر مسلح افواج کے ان حصوں کے درمیان تقسیم پیدا کر رہے ہیں جنہوں نے پارٹی سے وفاداری کا اظہار کیا اور جو وفاداری کا اظہار نہیں کرتے۔

شکایت کنندہ نےالزام لگایا تھا کہ شہباز گل مسلح افواج میں نفرت اور بغاوت کے بیج بو رہے ہیں، وہ سرکاری افسران کو حکومت کی ہدایات پر عمل کرنے کے خلاف دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ شکایت کنندہ نے کہا کہ یہ ایک پہلے سے سوچی سمجھی، منظم سازش ہے جسے سندھ اور دیگر صوبوں میں مسلح افواج اور سرکاری محکموں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ یہ واضح ہے کہ پروگرام میں حصہ لینے والے افراد نے پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور سی ای او کے ساتھ مل کر سازش کی تھی اور ان تمام افراد کی طرف سے کیے گئے اس عمل کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں