جعلی نکاح نامہ بنانے پر سابق بیوی اوربیٹے کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) جعلی نکاح نامہ بنانے پرسابق بیوی اور بیٹےاور جعلی بیوی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا حکم ۔تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی طارق حسین اجن نے جعل سازی اور دھوکہ دہی سمیت روزنامہ امت کے مالک عبدالرفیق افغان مرحوم کے شجرہ میں اپنا نام ڈالنے کے مقدمہ کو منسوخ کردیا اور چالان مسترد کرتے ہوئےجعلی بیوی فوزیہ ناز ، سابقہ بیوی سعدیہ رفیق اور علی حمزہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ فاضل عدالت نے اپنے حکم نامہ میں تحریر کیا ہے کہ مدعی مقدمہ کے مطابق عبدالرفیق افغان کا انتقال 2 اگست 2021 کو ہوا، اس کے بعد ایک خاتون بنام مسمات فوزیہ ناز نے دعویٰ کیا کہ وہ رفیق افغان کی بیوی ہے جس نےعلی حمزہ کے ساتھ مل کر جعل سازی کے ذریعے جعلی نکاح نامہ تیار کیا۔ یکم نومبر2021 کو مسمات فوزیہ نے علی حمزہ کی مدد سے یونین کمیٹی نمبر 2 منظور کالونی نمبر 1 کراچی جعلی نکاح نامہ جمع کرایا اور سرٹیفکیٹ حاصل کیا جس پر قاضی مفتی نسیم احمد کی مہر ہے جبکہ مہر میں احمد اسدی کے لفظ نقش ہیں اس حوالے سے تفتیش کی گئی تو مفتی لائق احمد اسدی کا نام سامنے آیا جوکہ اصل نکاح خواں ہیں ۔
جس کے بعد ملزمان کے خلاف دھوکہ دہی اور بے ایمانی سے نکاح نامہ تیار کرنے اور رفیق افغان کےشجرے میں اپنا نام ڈالنے کے پر مقدمہ درج کرایا۔ اس سے قبل مذکورہ کیس کی تفتیش اے ایس آئی شاہ فیصل کر رہے تھے۔ ان کی رپورٹ کو دیکھنے کے بعد عدالت نے مزید تحقیقات کے لیےڈی ایس پی ذوالفقار حیدر کو ذمہ داری سونپی انہوں نے مزید گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جبکہ مدعی مقدمہ کے وکیل نے سی کلاس پر دلائل میں کہا کہ پولیس تحقیقات کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے پولیس نے دستاویزی شواہد کو یکسر نظر انداز کیا۔دوسری طرف سے پبلک پراسیکیوٹر نے بھی مقدمہ ختم کرنے کی مخالفت کی۔ عدالت نے نے تمام تر کارروائی کا جائزہ لیا اور قرار دیا کہ دوران تفتیش جو دستاویزی شواہد جمع ہوئے ان سے یہ ظاہر ہوا کہ مفتی نعیم احمد اسدی بطور نکاح خواں رجسٹرڈ نہیں ہے جبکہ رجسٹرڈ شخص دراصل ڈاکٹر محمدلئیق احمد اسدی ہے جنہوں نے کہا کہ انہوں نے ایسا کوئی نکاح نامہ نہیں دیکھا اور ملزمان نے جعلی نکاح نامہ تیار کیا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یو سی لیاقت آباد نے اپنے سیکرٹری کے ذریعے تصدیق کی کہ قاضی مفتی نعیم احمد بطور رجسٹرڈ نکاح خواں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے ۔ تفتیش میں شامل گواہان اسحاق خان ، عبد الظاہر اور بسم اللہ جان نے اپنے بیانات میں دعویٰ کیا کہ وہ عبدالرفیق افغان اورفوزیہ ناز کی شادی تقریب میں موجود تھے اور ان کا نکاح شریعت محمدی کے عین مطابق ہے لیکن یہ انکشاف بھی کیا کہ تحریری طور پر کوئی نکاح نامہ جاری نہیں کیا گیا۔ تفتیشی افسر مبینہ نکاح نامہ کی محکموں سے تصدیق کی جس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان کے خلاف نوٹس لینے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں اس لیے سی کلاس کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں