شوگرا یڈوائزری بورڈکا اجلاس6اکتوبرکوطلب،چینی کی قیمتوں،کھپت،پیداواراورذخائرکا جائزہ لیا جائےگا

اسلام آباد/لاہور(نیوزٹویو) وفاقی حکومت نے شوگر ایڈوائزری بورڈ کو وزارت صنعت وپیداوار سے الگ کر کے وزارت تحفظ خوراک  کے ساتھ منسلک کر دیا اس اقدام کے کے بع شوگر ایڈوائزری بورڈ  از سر نو تشکیل دےکربورڈ کی پہلا اجلاس 6 اکتوبرکو طلب کر لیا گیا ہے۔اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کریں گے۔ اجلاس میں ملک میں چینی کی موجودہ قیمتوں، پیداوار،کھپت اورموجودہ ذخائر کا جا ئزہ لیا جا ئے گا دوسری جانب پا کستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت سے چینی کی برآمد کی اجازت دینے مطالبہ کیا ہے اورکہا ہے ملک میں 17 لاکھ ٹن سے زائد چینی موجود ہے۔اگر اس زائد از ضرورت چینی کو برآمد نہ کیا گیا تو کسانوں، شوگر ملوں اور ملک کی معیشت کو شدید نقصان ہو گا۔

پاکستان شوگر ملزایسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق ایڈوائزری بورڈ کےاجلاس کے ایجنڈے پر مشاورت کیلئے پاکستان شوگر ملز ایسو ایشن کا اجلاس ہوا جس کی صدارت چئیرمین پاکستان شوگر ملز ایسوایشن،  چوہدری محمد ذکا اشرف نے کی۔ اس اجلاس میں وزارت میں جاری کئے گئے ایجنڈے اور اعدادوشمار پر غوروخوض کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق وزارت کی طرف سے جاری ایجنڈے کے مطابق ملک میں سال 22-2021 میں7،905،564 ٹن چینی پیدا ہوئی۔ جبکہ پچھلے سال کے اسٹاک سے 51،706 ٹن چینی موجود تھی۔شوگر بیٹ سے حاصل ہونے والی چینی کی مقدار 70،000 ٹن تھی۔ اس طرح سیزن اور سال کے آغاز پر چینی کی کل مقدار 8،027،270 ٹن تھی۔ جاری شدہ اعدادوشمار کے مطابق اب تک یعنی 30 ستمبر تک 5،316،473 ٹن چینی اسٹاک سے جا چکی ہے  یا استعمال ہو چکی ہے۔ روزانہ کھپت کا تخمینہ 15،980 ٹن ہے۔ اس طرح منسٹری کے جاری شدہ اعدادوشمار کے مطابق نومبر میں نیا کرشنگ سیزن شروع ہونے تک ملک میں 1،736،017 ٹن چینی فالتو موجود ہو گی۔ اجلاس میں ممبران نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیاکہ اب تک حکومت نےچینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ جبکہ ملک میں 17 لاکھ ٹن سے زائد چینی موجود ہے۔اگر اس زائد از ضرورت چینی کو برآمد نہ کیا گیا تو کسانوں، شوگر ملوں اور ملک کی معیشت کو شدید نقصان ہو گا۔ اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طورپر چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں