سی ڈی اے نے سینٹورس مال کو جزوی طورپرڈی سیل کر دیا

اسلام آباد(نیوزٹویو)وفاقی دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے نے شہر کے سب سے بڑے نجی شاپنگ مال سینٹورس کو جزوی طور پر ڈی سیل کردیا ہے ڈی سیل صرف عمارت کے رہائشی حصے کو کیا گیا ہےجبکہ سی ڈی اے شعبہ بلڈنگ کنٹرول کے مطابق خلاف قوانین استعمال پر عمارت کی بیسمنٹ سیل رہے گی۔ سی ڈی اے حکام کاموقف ہے کہ بیسمنٹ غیر قانونی طورپر کمرشل استعمال کیا جارہا تھا، تہہ خانہ کو پارکنگ کے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، کمرشل سرگرمیوں کی وجہ سے تہہ خانے کو سیل کیا۔

واضح رہے کہ منگل کی صبح اسلام آباد میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے مبینہ طور پر خلاف قوانین استعمال پر نجی شاپنگ مال سینٹورس میں کارروائی کرتےہوئے شاپنگ مال کے عملے اور سیکیورٹی گارڈ کو باہر نکال کر عمارت سیل کردی تھی۔ مال کے چاروں اطراف خاردار تاریں لگا دی گئیں جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کردی گئی تھی

سی ڈی اے کی جانب سے ایک نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ عمارت کے خلاف قوانین استعمال کرنے پر مال کو سیل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔نوٹی فکیشن کے مطابق سینٹورس مال انتظامیہ کو متعدد بار نوٹس جاری کرنے کے بعد عمارت کو سیل کیا گیا، متعدد بار نوٹسز کے باوجود عمارت کے غیر موافق استعمال اور سی ڈی اے قواعد کی خلاف ورزیاں جاری رہیں، مسلسل نوٹسز کے باجود سینٹورس مال انتظامیہ نے تعمیل نہیں کی۔ نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ سی ڈی اے آرڈیننس 1960 کے تحت بلڈنگ کنٹرول ریگولیشن 2020 کے مطابق نجی مال کو سیل کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔

آل پاکستان انجمن تاجران کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے شعبہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حکام نے رات گئے کارروائی کرتے ہوئے سینٹورس مال کے عملے کو باہر نکال کر عمارت کا ایک حصہ مکمل طور پر سیل کردیا ہے۔

آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ رات کے اندھیرے میں سینٹورس مال سیل کرنا انتقامی کارروائی ہے، سیاسی انتقام لینے کے لیے روزگار بند کر دینا نامناسب طریقہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مال سیل کرنے کا مشورہ دینے والوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ سینٹورس مال سے سیکڑوں تاجروں کا کاروبار وابستہ ہیں، اگر بندش کی گئی تو ہزاروں ملازمین بے روز گار ہو جائیں گے، یہاں سیکڑوں لوگ رہائش پذیر بھی ہیں۔

اجمل بلوچ نے کہا کہ اسلام آباد کی تاجر برادری سینٹورس مال کے تاجروں کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عمارت کو فوری ڈی سیل کرنے کے احکامات جاری کرے۔انجمن تاجران کے صدر نے حکومت کو خبردار کیا کہ سینٹورس مال کو ڈی سیل نہ کیا گیا تو جناح ایونیو بند کر دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں