لاہورہائیکورٹ نے سائفر آڈیوکیس میں عمران خان کی ایف آئی طلبی کا نوٹس معطل کردیا

لاہور(نیوزٹویو)لاہور ہائی کورٹ نے سائفر آڈیو کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے)کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کی طلبی کا نوٹس معطل کردیا۔ منگل کولاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال نے سائفر آڈیو لیک تنازع کی تحقیقات کے سلسلے میں طلبی کے خلاف پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی درخواست پر سماعت کی عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت عالیہ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے نے عمران خان کے خلاف سائفر آڈیو لیک کی انکوائری شروع کردی ہے۔

جسٹس اسجد گھرال نے پوچھا کہ کیا اس بات کی انکوائری کی گئی کہ سائفر آڈیو لیک کیسے ہوئی، جن لوگوں کا وہاں کنٹرول تھا کیا ان سے یہ تفتیش ہوئی کہ آڈیو لیک کیسے ہوئی۔ وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ وزیر اعظم آفس سے اڈیو لیک ہونا افسوس ناک ہے جبکہ ایف آئی اے نے انٹرنیٹ سے آڈیو اٹھا کر خود سے تفتیش شروع کر دی۔

جسٹس اسجد گھرال نے ریمارکس دیے کہ پہلے تو آڈیو کا فرانزک ہونا چاہیے کہ وہ درست بھی ہے یا نہیں، کیا آڈیو لیک میں اور بھی لوگوں کے خلاف انکوائری ہوئی ہے۔

عمران خان کے وکیل نے کہا کہ میرے علم کے مطابق شاہ محمود قریشی سمیت دیگر کے خلاف بھی انکوائری جاری ہے۔لاہور ہائی کورٹ نے وکیل کے دلائل سننے کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کی ایف آئی اے میں طلبی کا نوٹس معطل کر دیا اور ایف آئی اے سمیت دیگر فریقین سے 19 دسمبر تک جواب طلب کر لیا۔

واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر آڈیو لیک تنازع پر ایف آئی اے کے نوٹس کے خلاف گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواست میں وفاقی حکومت، ایف آئی اے اور تفتیشی افسر کو فریق بنایا ہے۔درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ ایف آئی اے نے سائفر پیغام کے معاملے پر انکوائری شروع کر رکھی ہے اور اس معاملے پر بیان قلم بند کروانے کے لیے 6 دسمبر کو طلب کر رکھا ہے۔وکیل کے توسط سے دائر درخواست میں عمران خان نے کہا تھا کہ سائفر انکوائری کو پہلے ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے لیکن سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے بے بنیاد انکوائری میں طلب کیا گیا ہے۔ایف آئی اے میں طلبی کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ طلبی کے نوٹس میں کسی قانون کی پاسداری نہیں کی گئی ہے لہٰذا سائفر آڈیو لیک اسکینڈل کی انکوائری غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ درخواست کے حتمی فیصلے تک سائفر آڈیو لیک اسکینڈل انکوائری روک دی جائے۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے سائفر آڈیو لیکس کے معاملے پر اکتوبر میں سابق وزیر اعظم عمران خان، ان کے ساتھی سابق وزرا اور سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے خلاف سقانونی کارروائی کی باضابطہ منظوری دیتے ہوئے تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کی انکوائری ٹیم تشکیل دی تھی بعدازاں تحقیقاتی ٹیم نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی سمیت دیگر کو بیان دینے کے لیے طلب کرلیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں